احترام
قرآن اور اقبال
تحریر : ثاقب
اکبر
مسلمانوں
کے مختلف خطوں میں "احترام قرآن"کے حوالے سے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں
اور مختلف رسومات رائج ہیں ۔ ایک خطے کے مسلمان جب دوسرے خطے میں جاتے ہیں تو
رسومات کا یہ اختلاف بعض اوقات انھیں حیرت میں ڈال دیتا ہے اور گاہے مضطرب کر دیتا
ہے ۔
علماء نے احترام قرآن کے
حوالے سے فتوے بھی دیے ہیں ۔ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن حکیم کو کسی بھی دوسری کتاب
کے نیچے نہ رکھا جائے ۔ بعض لوگوں کے خیال میں کسی دوسری کتاب کے برابر بھی اسے
رکھنا بے ادبی ہے۔ غیر مسلموں کو قرآن نہ دینے کے "فتویٰ " کے پس منظر
میں بھی یہی سو چ کار فرما ہے ۔ اگر چہ بعض کے نزدیک یہ فتویٰ قرآنی تعلےمات کے فر
و غ میں حائل ہے ۔ کسی دور میں قرآن کے مخلوق یا قدیم ہونے کی بحث مسلمانوں میں
بڑی گرم تھی ۔ یہاں تک کہ اس کی بنیاد پر مسلمانوں نے ایک دوسرے کا بے پناہ خون
بہایا ۔ حکمرانوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس بحث کو استعمال کیا ۔ کلام کی
کتابوں میں ابھی تک اس بحث کی بازگشت موجود ہے ۔ اس بحث کے پیچھے مخصوص بحث بلکہ
خلطِ مبحث کے علاوہ ”احترام قرآن“ کا مخصوص تصور بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے لیکن
علامہ اقبال کے نزدیک "احترام قرآن "کی حقیقت ظاہری رسومات سے کہیں
ماورا ہے ۔
فقیر سید وحید الدین "احترام قرآن "کے زیر عنوان لکھتے ہیں :
"علامہ کی چھوٹی
ہمشیرہ کی شاد ی وزیر آباد کے ایک گھرانے میں ہوئی تھی غالباً اس لئے کہ ان کے
یہاں شاد ی کے بعد ایک دو سال میں کوئی اولاد نہیں ہوئی ، ان کی خو ش دامن نے
سسرال میں انھیںرہنے نہ دیا ۔ تلخی اتنی بڑھی اور بات یہاں تک پہنچی کہ وہ مجبوراً
میکے چلی آئیں اور کئی سال وہیں رہیں ۔ ان کی ساس نے بیٹے کی دوسر ی شاد ی کر دی۔
پھر نہ معلوم کیا واقعات پیش آئے کہ وہ اپنی اس دوسری بہو پر بھی سوکن لے آئیں۔
علامہ اقبال کے بہنوئی ایک سعادتمند بیٹے کی طرح اپنی والدہ کی زندگی بھر خدمت اور
اطاعت کرتے رہے۔ ماں نے جو کہا ، اس کی تعمیل کی لیکن ان کی وفات کے بعد انھوں نے
اپنی پہلی بیو ی کو گھر لے جانا چاہا اور کئی مہینے تک کوشش جاری رکھی۔ وہ بار بار
علامہ کے والد کے پاس طرفین کے رشتے داروں کو مصالحت کے لئے بھیجتے رہے۔ پہلے تو
ادھر سے انکار ہو تا رہا ۔ پھر بہت کچھ سو چ بچار کے بعد علامہ کے والد اور والدہ
صاحبہ دونوں رضامند ہوگئے ۔ سا س اور سسر کی رضامند ی کا سہارا پاکر علامہ کے
بہنوئی کچھ عزیزوں کو ساتھ لے کر اپنی سسرال آگئے ۔ اتفاق کی بات کہ ان دنوں علامہ
بھی سےالکوٹ گئے ہوئے تھے ۔ انھیں جب اس کا علم ہوا کہ ان کے بہنوئی مصالحت کی غرض
سے آئے ہوئے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی حد و نہایت ہی نہ رہی۔ والد صاحب نے بہت
کچھ سمجھایا مگر علامہ یہی کہتے رہے کہ مصالحت نہیں ہو سکتی ۔ ہر گز نہیں ہو سکتی
۔ آنے والوں کو واپس کر دیا جائے ۔ان کے والد نے جب دیکھا کہ اقبال کسی طرح رضامند
ہی نہیں ہو تے تو انھوں نے خاص انداز میں کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں
والصُّلحُ خَیر فرمایا ہے ۔ اتنا سننا تھا کہ علامہ اقبال خاموش ہو گئے ۔ ان کے
چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ، جیسے کسی نے سلگتی ہوئی آگ پر برف کی سل رکھ دی ہو ۔
ان کے والد نے قدرے توقف کے بعد علامہ سے پوچھا کہ پھر کیا فیصلہ کیا جائے ؟ علامہ
نے جواب دیا ، وہی جو قرآن کہتا ہے ۔ چنانچہ مصالحت ہو گئی اور چند دن کے بعد ان
کے بہنوئی اپنی بیو ی یعنی علامہ کی چھوٹی بہن کو رخصت کرا کے اپنے گھر لے گئے ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ صلح خیر ہی ثابت ہوئی "۔ ﴿١﴾
گویا اقبا ل کے نزدیک قرآن حکیم کا حقیقی احترام اس کے احکام پر بلا جو ن و چرا
عمل سے عبارت ہے ۔ ادھر قرآن کا حکم سامنے آیا اور ادھر ایک مومن نے سر تسلیم خم
کر دیا ، اپنے جذبات و احساسات کو جذبہ اطاعت الٰہی کی قوت سے قابو میں کر لیا ،
اپنی رائے کو قرآن کی رائے میں بدل لیا۔
مرسومات کے حوالے سے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے ۔ ایم اسلم لکھتے ہیں :
" میں نے متعدد بار
قرآن مجید کو ان کے مطالعے کے میز پر دیگر کتابوں کے ساتھ پڑا دیکھا۔ ایک مرتبہ
میں نے ادب کے ساتھ انھیں اس طر ف متوجہ کیا تو فرمانے لگے : یہ کسی قیمتی اور
خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر اور عطر میں بسا کر اونچی جگہ پر رکھنے والی کتاب نہیں
بلکہ یہ تو انسان کے ہر وقت کام آنے والی کتاب ہے ۔ چونکہ مجھے اکثر اس کے حوالے
کی ضرورت پیش آتی ہے اس لیے یہاں رکھی ہے "﴿۲﴾
اس جملے پر ایک مرتبہ پھر غور کیجیے : "یہ تو انسان کے ہر وقت کام آنے والی
کتاب ہے "۔
اسی لیے سفر اور حضر میں وہ اسی ساتھ رکھتے تھے ۔ شو ق و ذوق سے اس کا مطالعہ کر
تے تھے ۔ قرآن ان کے نزدیک کتاب فکر و عمل تھی ۔ ہمیں "رسومات احترام "
نے قرآن کریم سے دور کر دیا ہے ۔ اسے بلند طاق کی زینت بنائے رکھنے نے رفتہ رفتہ
اسے طاق نسیاں کر دیا ہے ۔
اس حوالے سے اقبال مسلمانوں سے گلہ کرتے ہیں :
برہمن ازبتاں طاق خو د
آراست
تو قرآں از سر طاقے
نہادی ﴿۳﴾
برہمن نے اپنے طاق
کو بتوں سے سجا یا ہے اور اے مسلمان تو نے قرآن کو طاق پر رکھ چھوڑا ہے ۔
یہ ایک دعوت فکر ہے کہ قرآن کو بھی مسلمانوں نے ایک بت بنا لیا ہے ۔ جسے خو ب اچھے
غلا ف میں لپیٹ کر بڑے "احترام "سے ایک بلند جگہ پر رکھ چھوڑتے ہیں اور
اس کی دعوت اور پیغام کو اپنی زندگی سے خار ج کر دیا ہے ۔
ایک اور مقام پر ہمار ے معاشر ی کی "رسوم قرآنی "پر اپنے سوز دروں کا
اظہار مسلمان کو مخاطب کر تے ہوئے یوں کر تے ہیں :
بہ بند صو فی و ملا اسیر
ی
حیات از حکمت قرآں نگیر
ی
بآ یا تش تراکار ی جزایں
نیست
کہ از یسینِ اُو آساں
بمیر ی ﴿۴﴾
اے مسلمان! تو
صوفی و ملا کے فریب کم نگہی اور کج ادائی کا اسیر ہے اور حکمت قرآں سے پیغام حیات
اور اسلو ب زندگی حاصل نہیں کر رہا ۔ قرآن کی آیات سے تیرا تعلق بس اتنارہ گیا ہے
کہ تیرے ہاں کسی کے وقت نزع سور ہ یسین کی تلاوت بس اس لیے کی جاتی ہے کہ مرنے
والے کا دم آسانی سے نکل جائے ۔
﴿١﴾ روزگار فقیر
از فقیر سید وحید الدین ،
طبع:اسلامی پبلشنگ کمپنی اندرون لوہاری دروازہ لاہور،ج ۲،ص ١٨٤
﴿۲﴾ افکار اقبال
از محمد حامد
طبع:اقبال اکادمی پاکستان،لاہور،جنوری ١٩٨٦ ،ص ١٣
﴿۳﴾ کلیات اقبال (فارسی )
عنوا ن : برہمن،طبع: شیخ
غلام علی اینڈ سنز ،لاہور، فروری ١٩٧٣،ص ٩٧٨، ارمغان حجاز (فارسی ) ص ٩٤
﴿۴﴾ کلیات اقبال
(فارسی)
عنوان : صوفی و ملا،طبع: شیخ غلام علی اینڈ سنز ،لاہور، فروری ١٩٧٣ ،ص ٩٥٥ ،
ارمغان حجاز (فارسی )ص ٧٣
No comments:
Post a Comment