Monday, 1 June 2015

علامہ اقبالؒ : یوروپ کے سفر کے آئینے میں



علامہ اقبالؒ : یوروپ کے سفر کے آئینے میں

ڈاکٹر شکیل صمدانی 
شعبہ قانون، مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ
علامہ اقبال۹؍ نومبر 1877 ء بمطابق 3؍ذی قعدہ1294 ھ کو سیالکوٹ کے محلہ چودھری وہاب میں (جسے آج کل  اقبال اسٹیرٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔) پیداہوئے۔ والدہ نے ان کا نام محمد اقبال رکھااور یہ نام واقعی ان کے لیے اقبال مند ثابت ہوااور وہ محمد اقبال سے بیرسٹر سر محمد اقبال ہوگئے۔اقبال ابھی دوسال کے تھے کہ کسی بیماری میں جونکیں لگانے کا علاج تجویز کیا گیا جس کی وجہ سے داہنی آنکھ سے بڑی مقدارمیں خون نکل گیا اور داہنی آنکھ کی بصارت ہمیشہ کے لیے جاتی رہی۔ لیکن اﷲ کی قدرت دیکھئے کہ بائیں آنکھ کی بینائی اس قدر تیز تھی کہ انہیں آخری عمر تک کبھی دائیں آنکھ کی بصارت چلے جانے کا احساس ہی نہیں ہوا۔علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم قدیم اور روایتی طرز کے مکتب میں حاصل کی ۔1891 ء میں مڈل اور1893 ء میں مٹرک پاس کیا۔1897 ء میں بی۔اے کا امتحان پاس کیااور عربی میں اوّل آنے پر وظیفہ کے علاوہ دو گولڈ میڈل بھی حاصل کئے۔دورانِ ایم۔اے (فلسفہ) انہیں مشہور پروفسیر سرٹامس آرنلڈ کی شاگردی کا فخر حاصل ہوا۔ یہ وہی سر آرنلڈ تھے جو علی گڑھ میں دس سال تک فلسفہ پڑھا چکے تھے۔ اور اسی دوران انہوں نے علامہ شبلی نعمانی سے عربی کی تعلیم بھی حاصل کر لی ۔1899 ء میں علامہ اقبال نے ایم۔اے پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں اوّلّ نے پر نواب علی بخش گولڈ میڈل حاصل کیا۔اس کے بعد وہ اورینٹل کالج، لاہور میں عربی کے ریڈر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد آپ کو گورنمنٹ کالج، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسری مل گئی اور آپ وہاں انگریزی بھی پڑھانے لگے۔ یہ سلسلہ ستمبر1905 ء تک جاری رہااور اس کے بعد آپ نے یوروپ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج سے چھٹی لے لی اور اس طرح درس وتدریس کا سلسلہ کچھ دنوں تک معطل ہوگیا۔
پوروپ میں تعلیم حاصل کرنے کا خیال علامہ اقبال کے ذہن میں کس طرح آیا یہ تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا لیکن اس سلسلے میں پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے ’’اسٹرا اسسٹنٹ کمشنر‘‘ کے مقابلے کے امتحان میں حصہ لیا لیکن میڈیکل بورڈ نے دائیں آنکھ کے نقص کی بنیاد پر انہیں نہیں لیا۔انہوں نے اور ان کے رفقاء نے اس پر بہت احتجاج کیا لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے میں خاص دلچسپی تھی کیونکہ آپ کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد پر حکومت کے افسران نے جھوٹا مقدمہ چلایا تھا۔اس لئے ان کے اندر یہ احساس شدت اختیار کرگیا کہ انہیں ہر حال میں قانون کی تعلیم حاصل کرنی ہے۔ایک تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے محبوب استاد سر آرنلڈ نے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انگلستان میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ان کے جانے کے بعد علامہ اقبال کے ان کے اوپر ایک نظم بھی لکھی تھی اور شاید انگلستان میں ان سے ملنے کی خواہش نے بھی ا نہیں یوروپ کا سفر کرنے پر بھی مجبور کیا۔علامہ اقبال نے ’’بغیر تنخواہ‘‘ چھٹی لی۔انگلستان کے سفر پر روانہ ہوگئے۔پہلی دہلی گئے اور خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار پر گئے اور ’’التجائے مسافر‘‘ کے عنوان سے اپنا الوداعی سلام پیش کیا۔ امیر خسرو اور غالب کے مزار پر بھی حاضری دی۔
علامہ اقبال نے انگلستان پہنچنے کے بعد اس بات کا خاص خیال رکھا کہ ان کا قیام ایسی جگہ ہو جہاں ذبیحہ کا خاص انتظام ہو اس زمانے نے میں یہودیوں کے یہاں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ان کے استاد آرنلڈ کے ان کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایک یہودی عورت کے یہاں، جس کی عمر تقریباً پچاس سال تھی، قیام کا انتظا م کیااور انہوں نے دورانِ قیام اس یہودی عورت کو اسلامی طہارت کے اصول بتائے۔وہ یہودی خاتون علامہ اقبال کی ان باتوں سے بہت متاثر ہوئی اورانہوں نے وعدہ کیا کہ ہے وہ ساری عمر اسلامی قائدے کے مطابق طہارت کے ساتھ ہی زندگی گزاریں گی۔
علامہ اقبال نے1905 ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں ٹِرنِٹی کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ’’لنکن ان‘‘ لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگے ۔اسی دوران آپ نے میونخ یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کے لیے ’’فلسفۂ عجم‘‘ پرمقالہ لکھنے کا آغاز کیااور اپنا مقالہ انگریز ی زبان میں لکھا۔4 ؍نومبر1907 ء کو آپ نے میونخ یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور لندن واپس آکر برسٹری کا امتحان پاس کیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے ’’لندن اسکول آف اکنامکس ‘‘میں داخلہ لیاتاکہ معاشیات اور سیاسیات کا مطالعہ کرسکیں۔اور اسی کے ساتھ ساتھ کیمبرج یونیورسٹی سے ’’فلسفۂ اخلاق‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کروہاں سے بھی ڈگری حاصل کی۔ علامہ اقبال نے انگلستان ،اسکاٹ لینڈ اور جرمنی کے مختلف علاقوں کے دورے کئے ۔لندن میں اسلام پر کئی لکچر دئیے۔’’پان اسلامک‘‘ سوسائٹی کی تنظیم میں حصہ لیا اور کیمبرج یونیورسٹی میں اسلام اور اسلامی فلسفہ پر آدھا درجن مقالات لکھے ۔ دورانِ پی۔ایچ۔ڈی عجمی تصوف کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ جس کے نظریہ وحدت الوجود کا طلسم پاش پاش ہوگیا۔اقبال نے یوروپ کا تصورِ وطنیت کا بھی بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیااور اس نتیجے پر پہونچے کہ وطنیت خود ایک بت ہے اور اسے توڑنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
علامہ اقبال یوروپ میں تقریبا تین سال رہے اور کئی ڈگریاں حاصل کیں اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ اب فارسی کو ہی اپنے اظہارِ خیال کا ذریعہ بنائیں گے۔علامہ اقبال نے میونخ یونیورسٹی میں اپنا مقالہ پیش کیا تو پوری یونیورسٹی میں دھوم مچ گئی اور اقبال کو پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری عطا کی گئی۔ یہ مقالہ اس قدر شاندار تھا کہ یونیورسٹی آف کیمبرج نے اقبال کو ایک’’ امتیازی سرٹیفکیٹ‘‘ عطا کیا ۔
یوروپ میں قیام کے بعد علامہ اقبال ایم۔ اے، پی۔ایچ۔ڈی، برسٹری ایٹ لاء ہوکر وطن واپس آئے جہاں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔گورنمنٹ کالج لاہور کے صدر شعبۂ فلسفہ پروفسیر جیمز کے انتقال کے بعدیہ عہدہ علامہ اقبال کو پیش کیا گیا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ وہ چیف کورٹ میں وکالت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ادھر پرنسپل رابسن اس بات پر مضر تھے کہ اقبال ان کی پیش کش قبول کرلیں اور چیف کورٹ کے حکام یہ چاہتے تھے کہ اقبال پریکٹس جاری رکھیں۔ بہرحال محکمۂ تعلیم اور چیف کورٹ کے حکام نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ اقبال صبح کو کالج میں پروفیسری اور اس کے بعد چیف کورٹ میں پریکٹس کیا کریں گے۔چنانچہ اس بات کی حکومت سے باقاعدہ اجازت لے لی گئی اور یہ طے پایا کہ کورٹ میں مقدمات اسی وقت پیش ہوں جب اقبال کالج سے فارغ ہوکر کورٹ پہنچ جائیں۔بحیثیت وکیل علامہ اقبال نے1908 ء سے 1934 ء تک کام کیا۔ان کی دوسری دلچسپاں کچھ ایسی تھیں کہ وہ اپنی پوری توجہ قانون کے پیشے کو نہ دے سکے۔اگر وہ صرف اپنی پریکٹس پر دھیان دیتے تو ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے عظیم ترین وکلاء اور ماہرِقانون میںآپ کا شمار ہوتا۔
علامہ اقبال اظہارِ رائے کی آزادی کو کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اور اسی لیے جب سر اکبر حیدری نے انہیں 1917 ء میں قانون کی پروفیسری کے لیے اس شرط کے ساتھ دعوت دی کہ انہیں پرائیوٹ پریکٹس کی بھی اجازت ہوگی انہوں نے انکار کردیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی آپ کو پروفیسری کی پیش کش کی گئی، گورنمنٹ کالج ،لاہور میں بھی تاریخ کی پروفیسری کی بھی پیش کش ہوئی اورعثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد میں بھی بحیثیت پرنسپل بلانے کی تجویز آئی لیکن ان سبھی تجویزوں کو انہوں نے ماننے سے صاف انکار کردیا کیونکہ بقول ان کے اظہارِ خیالات کی آزادی میں یہ سارے عہدے آڑے آرہے تھے۔ زندگی کا ایک خاص نصب العین ان کے نزدیک اور ایک خاص ڈھب سے زندگی گزارنے کے لیے انہوں نے چند اصول بنائے تھے جس پر عمل کرنے کو وہ ہر چیز پر مقدم سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال نے گورنمنٹ کالج، لاہور میں ڈیڑ ھ سال فلسفہ پڑھانے کے بعد اچانک استعفیٰ دے دیا جب آپ استعفیٰ دے کر گھر آئے تو ان کے ملازم علی بخش نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر اعلیٰ عہدے سے بغیر وجہ کیوں استعفیٰ دے دیا۔ اقبال نے کہا علی بخش گورنمنٹ کالج کی پروفیسری ایک طرح کی پابندی ہے میں آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور اس عہدے پر رہ کر ان خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا۔
ملک اور دنیا کے سیاسی حالت نے اقبال کو سیاست میں بھی گھسیٹنے نے کی کوشش کی۔ ان کے دوستوں نے انہیں کونسل کا انتخاب لڑنے پر مجبور کیا ۔نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے1926 ء میں کونسل کا انتخاب لڑا اور اپنے مخالف کو ذلت آمز شکست دیتے ہوئے پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1931 ء میں اقبال دو بارہ یوروپ تشریف کے گئے اور یہ سفر دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے تھا۔علامہ اقبال 8؍اگست1931 ء کو لاہور سے روانہ ہوئے اور دوسرے دن دہلی کے اسٹیشن پر پہونچے تو ہزاروں لوگوں کا جم غفیر اسٹیشن پر موجود تھا۔ گاڑی رکنے کے ساتھ ہی جیسے ہی آپ ڈبہ سے باہر نکلے ہجوم نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور پھولوں کی بارش شروع کردی۔ علامہ اقبال نے ایک مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’
میرے ساتھ نہ کوئی پرائیوٹ سکریٹری ہے نہ ہی سیاسی لٹریچر کاپلندہ جس پر اپنے دلائل کی اساس قائم کروں۔ میرے ساتھ حق و صداقت کی ایک جامع کتاب ’’قرآنِ مجید‘‘ ہے جس کی روشنی میں مسلمانانِ ہند کی حقوق کی ترجمانی کرنے کی کوشش کرونگا۔‘‘
(
پیامِ اقبال بنام نوجوانانِ ملت)
انگلستان کے سفر کے دوران ان کے فرزند جاوید اقبال کے ہاتھ کا لکھا ہوا پہلا خط موصول ہوا۔ جس میں انہوں نے اپنے والد سے گراموفون لانے کی فرمائش کی تھی۔ گراموفون خیر تو وہ نہ لائے البتہ خط کے جواب میں ایک غزل لکھ کر بھیج دی۔ جو ’’جاوید کے نام‘‘ سے مشہور ہے۔  2 ء میں آپ تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے پھر لندن روانہ ہوئے۔ لندن سے واپسی پر اٹلی کی حکومت کی دعوت پر روم گئے۔27 ؍ نومبر کو مسولینی کی خواہش پر علامہ اقبال نے اس سے ملاقات کی۔ مسولینی وجہیہ وشکیل ہونے کے علاوہ نہایت خوش اخلاق بھی تھا، اقبال اس سے بہت متاثر ہوئے۔رسمی مزاج پرسی کے بعد مسولینی نے علامہ سے پوچھا: ’’ میری فاشسٹ تحریک کے بارے میں آپ کا خیال ہے؟‘‘ علامہ اقبال نے جواب دیا:’’ آپ نے ڈسپلین کے اصول کا بڑا حصہ اپنالیا ہے جسے اسلام اپنے نظامِ حیات کے لیے ضروری سمجھتا ہے، لیکن اگر آپ اسلام کا نظریۂ حیات پوری طرح اپنا لیں تو سارا یوروپ آپ کے تابع ہو سکتا ہے۔‘‘
مسولینی نے علامہ سے اٹلی کے قیام کے بارے میں ان کے تاثرات پوچھے اورآپ نے فرمایا: ’’ میں اطالویوں کے متعلق سمجھتا ہوں کہ وہ ایرانیوں سے کافی مشابہت رکھتے ہیں، اور بڑے ذہین و فطین ،خوبصورت اور فن پرست ہیں۔ ان کے پیچھے تمدن کی کتنی ہی صدیاں ہیں، مگر ان میں خون نہیں۔‘‘
مسولینی نے اس پر حیرت کا اظہار کیا توآپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’ ایرانیوں کو ایک فائدہ میسر رہا ہے جو اطالویوں کو میسر نہیں، اور وہ یہ کہ ان کے اردگرد مضبوط اور توانا قومیں افغان، کرد اورترک آباد ہیں جن سے وہ تازہ خون حاصل کرسکتے ہیں۔آپ اطالوی ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘
’’
اس پر مسولینی نے پوچھا: ’’اچھا ہم اہلِ اٹلی کو کیا کرنا چاہئے؟‘‘
علامہ اقبال نے جواب دیا: ’’یوروپ کی تقلید سے منھ موڑ کر مشر ق کا رخ کرو، اس لیے کہ یوروپ کااخلاق ٹھیک نہیں ۔ مشرق کی ہوا تازہ ہے، اس میں سانس لو۔‘‘
مسولینی نے علامہ اقبال سے کوئی اچھوتا مشورہ طلب کیا جو خاص اٹلی کے حالات کے لیے موزوں ہو۔ انہوں نے فرمایا: ’’ہر شہر کی آبادی مقرر کرکے اسے ایک خاص حد سے آگے بڑھنے نہ دو۔ اس سے زیادہ آبادی کے لیے نئی بستیاں مہیاکی جائیں۔‘‘
مسولینی کے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا:’’ شہرکی آبادی جس قدر بڑھتی جاتی ہے، اس کی تہذیبی و اقتصادی توانائی بھی کم ہوتی جاتی ہے اور ثقافتی توانائی کی جگہ مہرکاتِ شر لے لیتے ہیں۔‘‘
علامہ اقبال کے مزید کہا:’’ یہ میرا ذاتی نظریہ نہیں ہے بلکہ میرے رسولﷺ نے تیرہ سو سال پہلے یہ مصلحت آمیز ہدایت جاری فرمائی تھی کہ جب مدینہ منورہ کی آبادی ایک حد سے تجاوز کرجائے تو مزید لوگوں کو آباد ہونے کی اجازت دینے کے بجائے دوسراشہر آباد کیا جائے۔‘‘
یہ حدیثِ مبارکہ سنتے ہی مسولینی کرسی کے اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں ہاتھ میز پر زور سے مارتے ہوئے کہنے لگا:’’ کتنا خوبصورت خیال ہے!‘‘
(
پیام اقبال بنام نوجوانانِ ملت)
اٹلی میں دورانِ قیام علامہ اقبال نے روم کے ان اکھاڑوں کو دیکھا جس میں بیک وقت پچاس ہزار آدمی تماشہ دیکھ سکتے تھے۔اس پر انہوں نے کہا :’’ ایک طرف قدیمی رومی شہنشاہ تھے جنہوں نے ایک عظیم الشان عمارت اس غرض کے لیے بنائی کہ پچاس ہراز انسان بیٹھ کر انسانوں اور درندوں کی لڑائی کا تماشہ دیکھ سکیں۔ دوسری طرف لاہور کی بادشاہی مسجد ہے جو اس غرض سے تعمیر کی گئی ہے کہ ایک لاکھ بندگانِ خدا جمع ہوکر مساوات ،اخوت اور محبت کے سچے اور مخلصانہ جذبات کا مظاہرہ کر سکیں۔‘‘
اس ایک مثال کو سامنے رکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کتنی برکات کا شرچشمہ ہے۔
29
؍نومبر کو آپ مصر کے لیے روانہ ہوگئے۔ اخبار نویسوں کے اصرار پر مصری نوجوانوں کے لیے مندرجہ ذیل پیغام دیا:’’ مصر کے نوجوانوں سے میری درخواست ہے کہ وہ رسول کریمﷺ کے وفادار رہیں۔‘‘مصر میں آپ کی ملاقات مشہور صحافی اور تاریخ داں محمد حسین ہیکل سے ہوئی۔ 4 ؍ دسمبر کی شام کو’’ شبان المسلمین‘‘سے انگریزی میں خطاب کیا. اگلے روز مسجد عمرو بن العاصؓپہونچے۔ امام شافعیؒ کے مزار پر آپ دیر تک قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے۔ جامعہ ازہر پہونچے اور کچھ دیر منطق ، تفسیر اور حدیث کے درس میں شریک رہے۔6 ؍دسمبر کو آپ بیت المقدس پہونچے۔ آپ نے وہاں’ مؤتمر عالمِ اسلامی‘ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور اس کے بعد رئیس الحرار مولانا محمد علی جوہر کی قبر پر فاتحہ پڑھی۔مؤتمر عالم ا لاسلامی کے اجلاس میں چار نائب صدور میں ایک نائب صدر آپ بھی منتخب ہوئے۔ بعد میں آپ نے’’ فلسطینی عرب‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ایک مختصر کی نظم بھی لکھی۔
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے
علامہ اقبال نے تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے علاوہ نیپولین کے مزار پر حاضری دی اور مشہور محقق میگ نون سے ملاقات کی اس کے علاوہ مشہور فلسفی برگساں سے بھی طویل ملاقات کی۔
اقبال کے سفرِ یوروپ کی سب سے اہم اور قابلِ ذکر بات اسپین میں ان کا چند روز کا قیام تھا۔مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستان اسپین کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔اسپین پہونچ کر انہیں قدیم مراکشی نسل کے لوگوں کو دیکھنے کی خواہش ہوئی۔ معلوم ہو اکہ ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان سے ملاقات کا اقبال کے دل پر بہت گہرا اثر ہوااور انہوں نے کہا151
آج بھی اس دیس میں ہے عام چشمِ غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگِ حجاز آج بھی اس کی فضاؤں میں ہے
اقبال مسجد قرطبہ بھی دیکھنے گئے ۔ اس کی وسعت وعظمت ان عرب شہسواروں کی یاد دلاتی ہے جن کا جذبۂ عشق انہیں سمندر پار سرزمینِ اندلس لے گیا۔ سپاہیوں کی کم تعداداور ناقص ہتھیارہونے کے باوجود انہوں نے دشمنوں کو شکست فاش دی۔ برسوں کی کڑی محنت اور نہ جانے کتنے کروڑوں روپیوں کی لاگت سے قرطبہ میں دریائے کبیر کے کنارے ایک خوبصورت اور عالی شان مسجد تعمیر کی گئی ۔جس کی نظیر دنیا میں ملنی مشکل ہے۔جب مسلمان عیش پرستی کا شکار ہوگئے، ان کی صفوں میں انتشار ہوگیا۔ انہیں دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ہوگئی تو عیسائیوں نے انہیں نکال باہر کیا اوراس مسجد کو گرجا میں تبدیل کردیا۔ اقبال نہ صرف اس مسجد کو دیکھنا چاہتے تھے بلکہ اس میں نماز بھی پڑھا چاہتے تھے لیکن اسپین کے قانون کے مطابق یہاں پر اذان دینا اور نماز پڑھنا دونوں ہی ممنوع تھا۔مشفق استادسر آرنلڈ، جنہیں علامہ اقبال دیوانگی کی حد تک چاہتے تھے ،کی کوششوں سے انہیں اس شرط کے ساتھ مسجد میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دروازہ اندر سے مقفل کرلیں۔ بقول سید قاسم محمود:’’ مسجد میں داخل ہوتے ہی اقبال نے اپنی آواز کی پوری قوت کے ساتھ اذان دی :’’ اﷲ اکبر اﷲاکبر‘‘۔ سات سو سال کے طویل عرصے میں یہ پہلی اذان تھی جو مسجد کے درو دیوار سے بلند ہوئی۔ اذان کے فارغ ہونے کے بعد اقبال نے مصلح بچھایا اور دو رکعت نماز ادا کی۔نماز میں آپ پر اس قدر رقت طاری ہوگئی کہ گریہ وزاری کو برداشت نہ کرسکے اور سجدہ کی حالت میں بے ہوش ہوگئے جب آپ ہوش میں آئے تو آنکھوں سے آنسو نکل کر رخساروں پر بہہ رہے تھے اور سکونِ قلب حاصل ہوچکا تھا۔جب آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو یکایک اشعار کا نزول ہونے لگا حتیٰ کہ پوری دعا اشعار کی صورت میں مانگی۔اسپین کے سفر کے بعد علامہ اقبال 22 ؍فروری1933 ء کو واپس وطن پہونچے۔
عمر کے آخری ایام میں آپ کو مختلف بیماریوں نے گھیر لیا۔ بیگم کی علالت کی وجہ سے ان کی پریشانیاں اور بڑھ گئیں۔ آخری عمر میں علامہ اقبال کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح حج کرلیں اور مدینہ منورہ میں روزۂ نبویﷺ پر حاضری دے سکیں لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔20 ؍اپریل کی رات پانچ بج کر چورہ منٹ پر وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اناﷲ واناالیہ راجعون! انتقال کے وقت ان کی زبان سے جو آخری لفظ نکلا وہ تھا ’’یا اﷲ!‘‘
علامہ اقبال کی پوری زندگی پر اگر غور کیا جائے تو بلامبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پوری زندگی اپنی قوم کو بیدار کرنے کے لیے وقف کردی۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور حلال کمائی کا ایک ایک روپیہ انہوں نے قوم کی فلاح و بہبود میں لگادیا۔ پوری زندگی قرآن کا مطالعہ کیا اور اسے اپنے شعروں میں ڈھال دیا۔یوروپ کا سفر کیا ، مصر کا سفر کیا، فلسطین گئے، افغانستان کا سفر کیااور جہاں جہاں گئے ، اسلام کی عظمت کے نشانات ضرور دیکھے۔ بڑے بڑے فلسفیوں ، دانشوروں ،نقادوں، شعراء، نثر نگار،علماء اور حکمرانوں سے ملاقات کی اور ہر جگہ اپنی اور اسلام کی چھاپ چھوڑی۔ جہاں جہاں گئے تاریخی مقامات دیکھے، عبرت آمیز اور سبق آموز اشعار لکھے۔ اشعار میں کہیں بھی نہ تو اسلام سے Compromise کیا اور نہ قرآن سے ، بلکہ ہر جگہ قرآن اور سنتِ نبوی سے بڑے بڑے حکمرانوں ، فلسفیوں اور دانشوروں کو مرعوب  کیااور ان پر اسلام کی چھاپ چھوڑی۔ اگریہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو میں قرآن کو منظوم شکل میں دیکھنا ہے تو وہ علامہ اقبال کا کلام ہے۔
علامہ اقبال کی پوم پیدائش پر اس سے بڑا خراجِ عقیدت کیا ہو اسکتا ہے کہ ہم ان کے کلام کو اپنی زندگیوں میں ڈھالیں اور نوجوانوں تک ان کے پیغام کو پہنچائیں۔ لیکن بد قسمتی سے ان کا کلام پڑھنے اور پہونچا نے کے لیے فارسی تو دور کی بات شمالی ہندوستان کا نوجوان اردو سے بھی نابلد ہے۔ آئیے یومِ اقبال کویومِ اردو کے طور پر منائیں اور اردو زبان کو فروغ دینے کے لیے جی جان سے لگ جائیں۔اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔

No comments:

Post a Comment