Wednesday, 15 May 2019

رمضان المبارک امن پانے و امن دینے کا مہینہ Ramadan and Peace

رمضان المبارک  امن پانے و امن دینے کا مہینہ
فتح اللہ گولن
 ترجمہ و تلخیص: ایاز الشیخ
رمضان کا مہینہ ہمارے افق پر اپنی دلکش اور جاذب جمالیت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جن میں روزہ ، افطاری ، سحری اور تروایح شامل ہیں ، چنانچہ اس سے وہ اپنے ساتھ مخصوص ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ، جس کی بالکل الگ تھلگ اپنی ایک تاثیر ہے ، جس سے روحیں دوبارہ نیکی کا ادراک کرتی ہیں ، دل اور احساسات اور افکار صاف ہوتے ہیں اور ہر طرح کی شدت اور خشونت میں سکون آجاتا ہے ، یہاں تک کہ یہ سب باتین اس وقت ہوتی ہیں جب آدمی مسلسل تناؤ کا شکار ہوتا ہے ، شدت اور سختی کا غبہ ہوتا ہے اور جب مخالفت کو ایک طرح کی مہارت سمجھا جاتا ہے اور لوگ سخت جمود کی زندگی گزار رہے ہوتے ھیں ۔ دوسری جانب حقیقت واقعہ یہ ہے جس شخص کی اندر اس مبارک ماہ کے حقیقی احترام کا جذبہ ہوتا ہے وہ واضح طور پر نرمی ، لطف اور رقت کو محسوس کرتا ہے ، اس رخ سی اگرچہ ہم اس وقت ہر جہت سے منفی امور میں گھڑے ہوتے ھیں لیکن اگر ہم اپنے ارادے کا حق ادا کریں اور اس مبارک وقت کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیں اور اس کی برکتوں پر دل کی گہرائیوں سے ایمان لائین اور تعظیم اور احترام کے ساتھ متوجہ ہوں ، تو وہ ہمیں گلے لگائے گا اور ہمارے اوپر اپنے فیوضات کی موسلا دھار بارش ہمارے سر سے لے کر پاؤں تک برسائے گا ، او ر حدت ، غصے اور شدت پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے گا اور اس طرح دوبارہ معاشرے پر خوشی ، طمانینت اور سکون کا ماحول چھا جائے گا ۔
کھانے پینے میں تنوع نہیں بلکہ مہمانوں کی کثرت
اب رہی بات ان کاموں کی جو اس بارے میں بجا لانے ضروری ہیں تو مثال کے طور پر کسی بلڈنگ کی فلیٹ میں رہائش پزیر شخص ( اپنی طاقت کے مطابق ) اپنی جود و سخا کا اس طرح اظہار کر سکتا ہے کہ وہ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کو افطاری کے لئے بلائے (خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب تہذیب اور علاقہ سے ہو) اور اس بارے میں ان کو مقررہ وقت سے چند دن پہلے بتلا دے اور کھانے کے بعد پہلے سے تیار شدہ معمولی سا تحفہ بھی یہ کہتے ہوئے پیش کرے کہ : ” آپ نے دعوت قبول کر کے ہماری عزت افزائی فرمائی اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ یہ معمولی سا تحفہ بھی قبول فرمالیں " ۔ اگر اس کے بس میں ہو تو وہ ان کے بچوں کا دل بھی خوش کر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی اسکول یا یونیورسٹی میں استاد ہو ، یا کسی ادارے میں ملازم ہو تو وہ بھی بلا تفریق تمام لوگوں کے لئے اپنے گھر کا دروازہ کھول کر افطار کے دستر خوان پر انہیں بٹھا کر معاشرتی امن میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ۔
ہمیں چاہئے کہ ہم اس مہینے کو قیمتی بنائیں اور اس پر نور مبارک مہینے میں اس طرح سرمایہ کاری کریں کہ ہمارا افطاری کا دستر خوان کبھی مہمان سے خالی نہ ہو۔ جی ہاں ! افطار کے دسترخوان کو مہمانوں کی کثرت اور تنوع سے سجانا کھانوں کے تنوع سے زیادہ ضروری ہے ، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جیسے کہ آپ کو معلوم ہے : ﴿ طَعَامُ الاثنينِ كافي الثَّلاثَةِ ، وَطَعَامُ الثَلاثَةِ كافي الأَربعَةِ ﴾ ( البخاری : الاطعمہ ، 11 ، مسلم ، الاشربہ : 179 ) (دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لئے اور تین کا چار کے لئے کافی ہے )۔ اس رخ سے ضروری ہے کہ ہم خصوصی برکت والے مہینے رمضان میں مہمانوں کی کثرت سے پریشان نہ ہوں ۔
تصرف میں ایسا اسلوب معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان حائل دوریوں کو پاٹنے اور ان کے بارے میں پہلے سے لگائے گئے حکم سے آگے گزرنے کا ایک اہم سفارتی طریقہ ہےکیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سی مشکلات ایسی ہیں جن کا حل سختی اور شدت سے مشکل ہو جاتا ہے ، اورکیل کانٹے سے لیس فوجی جتھے کے ذریعے ان پر غلبہ نہیں پایا جا سکتا ، مگر اس طرح ان کو حل کیا جا سکتا ہے ۔ جی ہاں ! اگر تم اپنے دل سب کے لئے کھول دو اور اپنی انسانیت کے ذریعے اپنے مخاطبین کے دلوں میں داخل ہو جاؤ اور اپنے دلوں میں سب کے لئے جگہ بنا لو تومختلف قسم کے بغض اور حسد اور غیض وغضب اور جنگ وجدل سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی تاریخ میں ایسی مشکلات یا بحرانوں کا بالکل کوئی وجود نہیں جن کو دھمکیوں سے حل کیا گیا ہو بلکہ دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگوں کے غضب میں مزید اضافہ ہوا اور انہوں نے اپنے آپ کو زیادہ حدت کے ساتھ تخریب کاری پر لگا دیا ۔
جیسے کہ ایک ترکی ضرب المثل ہے کہ ” قہوہ کی ایک پیالی کی خاطر چالیس سال تک کی جاتی ہے “۔ اس طرح ہماری طرف سے اپنے مہانوں کی افطار کی خاطر مدارات چالیس سال ہوگی۔ اس لئے اس رخ سے اس سخاوت اور مردانگی کا اظہار ضروری ہے جس کے نتائج بالکل مختلف ہوں گے ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس میں رمضان کی خاص برکتوں میں سے اور کون کون سی برکتیں پوشیدہ ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم روزے اور تراویح کے ذریعے اخروی ثواب حاصل کر سکتے ہیں ، اسی طرح ہم لوگوں کے دلوں میں داخل ہو کر انتہائی اہم مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔
آسمانوں کے اوپر کی آواز کی دل میں گونج
افطار میں غیر مسلم برادران وطن کو مدعو کیا جانا چاہئے اس باہمی اعتماد اور خیر سگالی کی فضا بنتی ہے۔ افطار کے روحانی منظر سے وہ بہت متاثر ہوتے ہیں۔ یہ یہ بہترین موقعہ ہے کہ ہم انہیں دین حنیف کی روحانی و جمالیاتی دولت جس پر تمام انسانوں کا حق ہے سے متعارف کرائیں۔ یہ بات دیکھی گئی ہے کہ غیر مسلم برادران و خواہران افطار کے بعد اذان اور باجماعت نماز سے بے حد متاثر ہوتے ہیں اور بعض توپر تم آنکھوں سے نماز کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دعوت افطار  انکی سوچ کو اسلام کی طرف مائل کر دیں اور اسلام اور مسلمانوں سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کردے۔ہمیں اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ کس کو معلوم ہے کہ یہ لوگ جو ہر شے میں زندگی اور تازگی محسوس کرتے ہیں ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی جمالیات کا ادراک ایک اور انداز سے کریں اور اچانک عمودی انداز میں اپنے کمالات تک جا پہنچیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے نتیجے کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں ان کے سامنے ایک نہیں ، کئی باردعوت افطار کے  دستر خوان بچھانے چاہئیں ۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمارے زمانے میں لوگوں نے اسلام کی جمالیات سے خالی زندگی گزاری ہے ، انہوں نے اسلامی اخلاق اور برتاؤ کو چھوا ہی نہیں ، اس لئے ہمارے اوپر عائد سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی خاندانی عمارت اور ماں باپ اور اولاد کے درمیان تعلق کے اظہار اور اپنی دعوتوں اور سخاوت کے ذریعے اسلام کی حقیقی تصویر کو عیاں کریں ۔ اس لئے کچھ لوگ اسلام کو ایک ” ہوا “ سمجھتے ہیں تو اس تاثر کو دور کرنے کا طریقہ ان سے اختلاط اور ان کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا ہے ۔ سو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس مبارک مہینے میں اس کام کو اپنے اپنے مرتبے کے مطابق معقول انداز سے مشورے ، عقل ، معقولیت اور منطقیت کا خیال رکھتے ہوئے انجام دیں ۔
کوئی بھی عمل رمضان کے عمل کے برابر نہیں ہوسکتا ۔ اللہ تعالی نے ہم پر جو بھی عبادت فرض کی ہے اور ہمیں اس کا مکلف بنایا ہے وہ ہماری ادائیگی کے مطابق ایک مختلف شکل اپنائے گی اور اللہ تعالی کے ہاں ہمارے حق میں گواہی دے گی ۔ چنانچہ جتنا ہم مغفرت کے مہینے رمضان کو خوش کریں گے ، اس کی گواہی ہمارے حق میں اتنی ہی قوی اور ترو تازہ ہوگی، اگر ہم نے اس فضیلت والے مہینے کام میں لایا تو وہ جاتے جاتے جدائی کے وقت اللہ تعالی کے ہاں ہمارے حق میں گواہی دے گا اور ہو سکتا ہے کہ ہمیں باب ” الریان “ سے داخل ہونے کا امیدوار بنا دے ۔ اس وجہ سے ہمیں ان عبادتوں کی پوری پوری قدر اور تعظیم او راحترام کرنا چاہئے جو اللہ تعالی نے ہم پر فرض کی ہیں، اور ساتھ ہی بہترین طریقے سے ان سے فائدہ بھی اٹھانا چاہئے ۔
انسان کو معلوم ہو جائے کہ کون سے اعمال اس پر آخرت میں نعمتوں کی بارش کا سبب تھے ، تو یہ بات ان نعمتوں کے بعد اس کی خوشی کو اور بھی چار چاند لگا دے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خالق سبحانہ وتعالی کا سرگوشی کرتے ہوئے یوں شکرادا کرے کہ : ” اے میرے رب تیری حمد و ثنا ہے ! تونے مجھے پہلے عمل کرنے کا شرف بخشا اور پھر بعد میں اس کے ثواب سے عزت افزائی فرمائی “ ۔
جی ہاں ! انسان آخرت میں اپنے روزے کو اچھی طرح پہچان لے گا ، وہ اس بھوک ، پیاس اور نماز تراویح کی تھکن ، سحری کے لئے اٹھتے وقت اپنے بپھرے ہوئے جذبات اور افطاری کے دسترخوان پر اپنی سخاوت کو ایسی شکل میں دیکھے گا جو عالمِ آخرت کے مطابق ہوگی اور ان ساری خوشیوں سے محظوظ ہو گا ۔
بعض عبادات اور نیکیوں کو اپنے مخصوص اوقات اور حالات کی وجہ سے اہمیت حاصل ہو جاتی ہے، اس طرح رمضان میں ہر عبادت اور نیکی بجا لائی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود رمضان میں اعمال کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے اور لوگ رمضان کے دوران بالکل مختلف انداز سے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کوئی بھی روزہ رمضان کے روزے کو پہنچ سکتا ہے اور نہ کوئی بھی نفل نماز رمضان میں نماز تروایح کے درجے کو ۔ اس طرح دیگر راتوں کی سحری ، رمضان کی سحری کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ افطار سے قبل اذان کا انتظار رمضان کے علاوہ اذان کا انتظار کے برابر ہو سکتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ رمضان کے علاوہ بندے کو ملنے والے اعمال کا اجر رمضان کے اعمال کےاجر کے برابر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے رمضان میں رہ جانے والے عمل کے خلا کو کوئی بھی عمل پر نہیں کر سکتا ۔ سو اس حقیقت کو دل کی گہرائی سے سمجھنے والے مسلمان رمضان کے رخصت ہونے پر ایک عجیب قسم کا فراق محسوس کرتے ہیں اور ان کو اگلے رمضان کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور ہمیں کیا معلوم ان کے اس شوق کی وجہ سے ان کو ایک اور رمضان کا ثواب بھی مل جائے ۔
(یو این این)

Wednesday, 13 February 2019

ریاست حیدرآباد اور اہل دکن کی حرمین شریفین کے لئے ناقابل فراموش خدمات


ریاست حیدرآباد اور اہل دکن کی حرمین شریفین کے لئے ناقابل فراموش خدمات
اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن کے زیر اہتمام جناب احمد علی کا توسیعی خطاب
حیدرآباد ۔  آصف جاہی سلاطین نے خدمات حرمین شریفین کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔دکن خصوصاً حیدرآباد کی عوام نے بھی اس کی سعادت حاصل کی۔ ان خیالات کا اظہار معروف دانشور و مورخ و ماہر آثار قدیمہ جناب احمد علی ، کیوریٹر نظام میوزیم ، ڈائرکٹر ابوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ حیدرآباد  و سابق کیوریٹر سالار جنگ میوزیم نے اپنے توسیعی خطاب بعنوان ''نظام دکن اور ریاستِ حیدرآباد کی خدمات حرمین شریفین'' کیا۔یہ خطاب اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سلاطین کی خدمات حرمین شریفین کی فہرست بہت طویل ہے۔ سلطان محمود غزنوی اور تمام مغل سلاطین بھی اس خدمت میں شامل رہے۔ اس سلسلے میں آپ نے اورنگ ذیب عالمگیر کا ذکر کیا۔سلاطین آصف جاہی نے عازمین حج کی رہائش کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 26 رباطیں قائم کیں۔ اور ساتھ ہی حرمین کے منتظمین کے لئے تحائف اور وہاںکے مساکین کی امداد ل کھول کر فرمائی۔ باب توبہ پر سونے کی سیڑھیاں بنوائیں جو آج بھی حرم میوزیم میں محفوظ ہیں ۔ مقام ابرہیم کی موجودہ حالت میں تنصیب بھی انہیں کا کارنامہ ہے۔ حرمین شریفین میں سب سے پہلے برقی روشنی لئے جرمنی سے جنریٹر منگوائے ۔ منی اور عرفات میں حجاج کے لئے طعام اور ٹھنڈے پانی کا نظم کیا۔ ان سب کا اہتمام صرف خاص سے کیا جاتا تھا۔ جناب احمد علی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے دیگر حکمرانوں اور نوابین نے جیسے نواب بھوپال، نواب جوناگڑھ وغیرہ نے بھی اپنے علاقہ کے حجاج لئے رباطیں قائم کیں جو آج بھی موجود ہیں۔ لیکن سلاطین آصف جاہی کی قائم کردہ رباطیں حرم سے بلکل متصل تھیں۔ شاہ  عبدالعزیز بن سعود کے زمانے میںان میںسے 22 رباطوں کو مسجد حرام میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے تمام آصف جاہی سلاطین بلخصوص پانچویں حکمران افصل الدولہ بہادر ،میر محبوب علی خان اور آصف سابع میر عثمان علی خان کی خدمات حرمین کا تفصیلی ذکر کیا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب حرمین کے انتظام سے خلافت عثمانیہ کو بیدخل کیا گیا تو ایک ہنگامی صورتحال پید ہوگئی تھی۔ اس وقت آصف سابع نے حرمین کے سالانہ اخراجات کی ذمہ داری  قبول کی۔ حکمرانوں کے علاوہ دکن خصوصاً حیدرآباد کے مخیر امراء ، نوابین اور عام شہریوں نے بھی حرمین شریفین کی خدمت کا اعزاز حاصل کیا۔ ان میں پائگاہ کے امراء  اور خان بہادر علاء الدین قابل ذکر ہیں۔ حرمین شریفین کے باشندگان  کے روزگار اور معاش کے لئے انجمن دستی پارچہ بافی حرمین شریفین قائم کی اور اس کے ذریعہ کارخانوں کا قیام عمل میں آیا۔حیدرآباد میں بہت سی ایسی وقف املاک  تھیں جن کی آمدنی حرمین شریفین کے لئے روانہ کی جاتی تھی۔  خدمت کا یہ سلسلہ سقوط حیدرآباد کے بعد بھی جاری رہا۔ اپنے اس پرمعلومات خطاب کے اختتام پر ایک اہم امر پر توجہ دلاتے ہوئے آپ نے کہا کہ موجودہ دور میں توسیع حرم کے منصوبہ میں رباط سمیت بہت سی وقف جائددایں سعودی حکومت نے حاصل کر لیں۔ اور ان کا خطیر معاوضہ محفوظ ہے ۔ اس کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس معاوضہ کے بدلے قدیم ریاست حیدرآباد میں شامل اضلاع کے حجاج اور موتمرین کے لئے ایک عظیم رباط کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔
جناب عمر علی خان، صدر اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن حیدرآباد نے اپنے صدارتی خطاب میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب احمدعلی صاحب نے کا یہ ایک تاریخی خطاب ہے۔ خدمات حرمین اہلیان دکن کے لئے ایک اعزاز ہے۔ ہمارے نیک دل حکمرانوں اور عوام نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے واقف کرایا جائے۔ حیدرآباد  رباط کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس سے اہلیان دکن مزید استفادہ کر سکیں۔ ساتھ ہی حیدرآباد و اضلاع میں واقع وقف املاک  کے بہتر استعمال کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وقف بورڈ کو فعال کردار اد کرنے کی ضروت ہے۔
اس اہم تاریخی نشست کا آغاز قاری محمد مسفر حسین کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ جناب شاہنواز ہاشمی نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ جناب ایاز الشیخ ، نائب صدر، اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن ، حیدرآباد نے فاضل مقرر کا استقبال کیا اور اسلامک ہیرٹیج فاونڈیشن کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ یہ ادارہ اقبال اکیڈمی کے اشتراک سے اسلامی تاریخ، تہذیب و تمدن پر مشتمل سرگرمیوں میں پچھلے اٹھارہ سال سے مصروف  عمل ہے۔ جناب ولی سکندر ، معتمد اسٹڈی سرکل اقبال اکیڈمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ جناب محمد عمر، لائبررین اقبال اکیڈمی نے شکریہ ادا کیا۔ اس اہم خطاب میں حیدرآباد و اکناف سے اہل علم و دانش کی کثیر تعداد شریک تھی۔ لکچر ہال اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا تھا۔ خطاب کے بعد شرکاء نے فاضل خطیب سے سوالات کئے اور اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ یہ لکچر ڈیکن ڈائجسٹ نیٹورک کے تعاون سے انٹرنیٹ پر راست نشر کیا گیا۔ ملک و بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں ناظرین نے اس سے استفادہ کیا۔ اس لکچر کی ویڈیو اقبال اکیڈمی کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔


Monday, 1 June 2015

علامہ اقبال اور اسلامی تشخص

علامہ اقبال اور اسلامی تشخص
پروفیسر سید ضیاءاﷲ ضیاء
پھول کی پتی پرغور کرو،جب پتیاںآئین کی پابندی کرتی ہیںتو پھول بن جاتی ہیں ۔ پھول آئین و اتحاد کے پابند ہوتے ہیں توگلدستے کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ آواز جب قانون موسیقی کی پابند ہو تی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے۔ قانون وآئین کی پابندی زندگی میں حسن، جازبیت اور قوت و عفت پیداکرتی ہے۔ قومیں بھی پھول اور آواز کی طرح ہیں۔ جب وہ آئین کی سختی سی پابندی کرتی ہیں تومضبوط اورسر بلند ہوجاتی ہیں مگر جب وہ تارک آئین ہو جاتی ہیں تو اپنی آبرو کھوبیٹھتی ہیںاور ان کی قوت و شوکت کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔
............ 
ریاض ملت پر خزاں مسلط ہو چکی ہے ۔ با د سموم کے جھونکوں نے ہرے بھرے درختوں کوخشک کر دیاہے۔ برگ وگل مرجھا کر گر پڑے ہیں۔ ایک آدھ پتا کہیں مثل چہرہ ¿مدقوق زرد نظر آتا ہے۔ یا س وقنو ط کے اس اندوہناک سماں میںکسے امید ہوسکتی ہے کہ یہ اجڑا چمن پھر آباد ہو گا لیکن آئین قدرت ہے کہ انحطاط و زوال کے وقت خدا کے بندے پیدا ہوتے ہیں اور امت مسلمہ میں توایسے ایسے صاحبان فکر و بصیرت پیدا ہوتے ہیںجو بموجب حدیث شریف بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کے سے کام کر دکھاتے ہیں۔ چناںچہ شعراءمیں سے حالی مرحوم نے اس کااحساس کیا اور قوم پر بڑی لے دے کی ۔ ہر چند کہ دل میں بڑا درد تھا لیکن صدیوں کے نشے کو چند طعنوں سے اتارنا مشکل تھا۔ اکبر مرحوم نے بھی جب دل کو ٹیس سی محسوس ہوئی تومریض کو ہو ش میں لانے کے لیے کچوکے دیے اور حقیقت ہے کہ خوب دیے اور ہنساہنسا کر اور گدگدا کر ایسے ایسے پتے کی باتیں کہہ گئے کہ جو تن لاگے سو تن جانے ۔ لیکن مرض کی کہنگی او رمریض کی ضد سے وہاں بھی یاس کا پہلو غالب رہا ۔
قدرت کاملہ نے بانگ دراکی خدمت کسی اور کے حصے میں رکھی تھی ۔ وقت آیا اور وہ ہستی پنجاب کی غیر معروف سے مقام میں اقبال کی نام سے منقہ شہود پر جلوہ فگن ہوئی۔ اس کی چشم حقیقت بین نے واقعات کوچھوڑ کر ان کے علل و اسباب پر غور کرناشروع کر دیا اورمحسوس کیا کہ فقدان عمل ،بے حسی ا ورمردہ دلی کا راز صرف اتنا ہے کہ سینوں میں دل اوردلوں میں آرزوئیں اورامنگیں جوش اورولولے پیدا کرنے والی حرارت نہیں۔ آتش دان ہیں لیکن افسردہ اور ٹھٹھرے ہوئے ۔ اورعلت مرض یہ ہے کہ قوم اپنی حقیقت سے بی خبر ہو چکی ہے۔افراد ملت کا نظریہ ¿ حیات متشائم ہوچکا ہے۔ لہذٰا سب سے پہلی چیز یہ کہ انھیں ان کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے، ان کو ممکنات زندگی کی وسعتوں سے روشناس کرایا جائے اورمثنوی ¿ روم کے تمثیلی شعر کی طرح جو ایک عرصے تک بھیڑوں کے گلے میں پرورش پا کر اپنے آپ کو بھیڑ ہی شمار کرنے لگا تھا، کسی آئینے میں اس کے اصل خدوخال سے واقف کرا دیاجائے ۔
شیر بیدار ازفسوں میش خفت
انحطاط خویش را تہذیب گفت
 ہر چند مرض ناسور ، مریض ضدی اور ضدی بھی ایسا کہ خوددر دکو دوا سمجھنے لگا تھالیکن اقبال کی پیشانی پر شکن نہیں آئی ، اس نے طبائع کی کمزوریوںکو حقارت کی نگا ہ سے نہیں دیکھا بلکہ ان کے حال زبوں پررحم کھایا اور مشفقانہ طورپر گری ہوئے کواٹھایا اوراٹھاکرسینے سے لگایا۔ یہ حقیقت ہے کہ اقبال ؒ موجودہ صدی میں ملت اسلامیہ کے ذہن کے اولین معمارتھے۔ اسلامی فکر کی تشکیل جدید اور اس کی فکری اور جذباتی رجحان کوتبد یل کرنے میںان کا حصہ سب سے نمایاںہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب کاجائزہ لیااوران کی تشخیص کے بعد اسلام کے حقیقی تصور حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصلی شکل میں پیش کیا۔ اسلام کی جو تشریح اقبال نے کی، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی اور انقلابی پہلوہے۔ اپنے مقصد کے تحت انھوں نے ایک اسلامی فکر کی تشکیل جدید کی۔ مغربی افکاراور ان کے زیر سایہ رونماہونے والی مختلف تحریکوں پر سخت تنقیدکی اورقوم کوتمدنی اورسیاسی اعتبارسے اسلام کی تعلیمات اختیارکر نے کی تلقین کی ۔ انھوںنے قومیت کے حقیقی تصور کو اجاگرکیا اور اس طرح مسلمانوں میں اتحاد اسلامی کے جذبات کوتقویت پہنچائی۔اقبال نے دنیائے اسلام کے ناقابل تقسیم ہونے کا خیال پیش کیا اور جدیدحالات کے تحت عالم اسلام کے اتحادپر زوردیا، خواہ یہ اتحادعالمگیر اسلامی ریاست کی صورت میںہویا متعدد اسلامی آزاد ریاستوںکی صورت میں جن کے ماہدات و مثاقات خالص معاشی اوردنیاوی مصلحتوںپر مبنی ہوں ۔ اس طرح انھوں نے الماوروی کی تائید میں مسلمانوں کے مرکز پر بھی غور کیا اورسید جمال الدین افغانی کے اس تصور کوبھی تسلیم کیا کہ مکہ معظمہ مسلمانوںکا مرکز توحید رہے گا۔
 
اس زمانے میں یورپ میںوطنی قومیت کاتصور ایک طرح کا سیاسی مذہب بن گیاتھا۔ اوریورپ کی ہرطاقت ور قوم کی قوت کاسر چشمہ وطن پرستی کے جذبات ہی میں موجود تھا۔ اقبال کے خیال میں اسلامی اتحاد بجائے خود ایک سیاسی وحدت ہے۔ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
 ”
نئے سکول کے مسلمانوںکومعلوم ہو گا کہ یورپ جس قومیت پرناز کرتا ہے، وہ محض بودی اور سست تاروںکابناہو ا ایک ضعیف چیتھڑا ہے۔ قومیت کے اصول کماحقہ صرف اسلام ہی نے بتائے ہیں۔ جن کی پختگی وپائیداری مرورایام واعصار سے متاثر نہیںہوسکتی ۔
اقبال کے خیال میں عالم اسلام کاانتشار اہل مغرب کی طرف سے پیدا ہوا ہے۔ ان کی کوششیں رہی ہیں کہ مسلمانوں کو ایک دوسری سے علاحدہ کر دیاجائے اور انھیں کسی طرح متحد نہ ہونے دیاجائے۔
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کوکردیتاہے گاز
 اس سلسلے میںوہ لکھتے ہیں :
 ”
مجھ کویورپی مصنفوںکی تحریروںسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی ہے کہ یورپ کے ملوکانہ اغراض اس امر کے متضاضی ہیںکہ اسلام کی وحدت دینی کوپارہ پارہ کرنے کے لیے ا س سے بہتراور کوئی حربہ نہیںکہ اسلامی ممالک میں فرنگی نظریہ ¿ وطنیت کی اشاعت کی جائے ۔یہی چیز ہندوستان میں مسلمانوں کی تباہی اورزوال کا باعث تھی۔ اقبال باربار ان امراض سے محفوظ رہنے کی تلقین کرتے ہیں:
   ربط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
  
ایشیا والے ہیں اس نقطے سے اب تک بے خبر
اقبال کے نزدیک اسلام میںقومیت کے دوبنیادی عقائد ہیں: اول توحیداور دوم نبوت ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان قومیت رنگ ونسل یا زبان و ادب کے اتحاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کی اساس پر قائم ہے۔ ”رموز بے خودی “کے تیسرے چوتھے ، پانچویں اورچھٹے باب میں اقبال نے تو حید پر مفصل بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی فلاح کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں توحید کا عقیدہ راسخ ہو جائے ۔ ا ن کے ادراک کی خامی اسی عقیدے کی بدولت دورہوتی ہے۔ اس کے سائے میںپست سر بلند ہوتے ہیں اور خاک کے پتلے فوری نہاد اور مولاصفات بنتے ہیں۔ فر د کے لیے توحید حکمت وخیر،تمکین ووقار اور قوت حیات کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے ۔
پست اندر سایہ از گرد ز بلند
خاک چوں اکسیر گردو ارجمند
 جو انسان رمز توحید کو پالیتا ہے اس کے راستے کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں۔ اس کے دل کا تذتذب دو رہوجاتا ہے او رکائنات کی حقیقت اس کے ضمیر پرروشن ہو جاتی ہے۔ ایک خداپرایمان لانے کے معنی یہ ہیںکہ ہم ہرلحاظ سے ایک ہوں ۔ ہمارے مقاصد اورنصب العین ایک ہوں ۔ ہماراانداز نظر ایک ہو ۔ ہماراطرز عمل ایک ہو۔ ہمارے لیے خو ب و ناخوب کا معیارایک ہو ۔ توحیدپرستوں کے فکروعمل میںکامل یک رنگی اور ہم آہنگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب سب کا خالق ومالک ایک ہے تو پھر گورے اور کالے اور امیروغریب میں امتیاز غیر حقیقی ہے۔ رموز میں اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توحید ہماری قومیت کی جان ہے۔ ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہے اور توحید اس کی روح رواں ۔ یہی رشتہ افکار و اعمال کا شیرازہ بند ہے۔
ماز نعمت ہائے او اخواں شدیم
یک زبان و یک دل و یک جاں شدیم !
 اسلامی قومیت کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ رمو ز کے ساتویں باب میں اقبال ؒ ذات رسالت مآب صلی اﷲ علیہ و سلم کی مرکزی حیثیت کو واضح کیا ہے ۔ مسلمانان عالم دنیا کی مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ وہ مختلف زبانیں بولتے ہیںاور مختلف سیاسی حالات سے دو چارہیں۔ اس کے باوجود ان میں وحدت کاا حساس صرف رسالت کی بدو لت ہے ۔جب ملت کا وجود اتحاد جناب رسالت مآب صلی اﷲ علیہ و سلم کا رہین منت ہے ، تو پھر رسالت سے ہمار ا رشتہ جس قدر محکم ہوگاقوم میںاس قدر زندگی اور تابانی بڑھی گی۔ جس قدر یہ رشتہ کمزور ہوگا ملت کمزورہو گی ۔ دامن رسالت کو ہاتھ سے چھوڑناگویااپنی ضعف وانتشار کو دعوت دینا ہے۔
ازرسالت ہم نوا گشتیم ما
ہم نفس ہم مدعا گشتیم ما
از رسالت درجہاں تکوین ما
ازرسالت دین ما آئین ما
تو حید اوررسالت اورملت اسلامیہ کی خصوصیات بیان کرنے کے بعداقبال نے قرآن حکیم کوملت کا آئین قراردیا ہے او رکہاہے کہ قوم کا نظام بغیرآئین کے استوارنہیںہوتا اور ملت اسلامیہ کاآئین صرف اور صرف قرآن حکیم ہے۔ اقبال کہتے ہیںکہ پھول کی پتی پرغور کرو،جب پتیاںآئین کی پابندی کرتی ہیںتو پھول بن جاتی ہیں ۔ پھول آئین و اتحاد کے پابند ہوتے ہیں توگلدستے کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ آواز جب قانون موسیقی کی پابند ہو تی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے۔ قانون وآئین کی پابندی زندگی میں حسن، جازبیت اور قوت و عفت پیداکرتی ہے۔ قومیں بھی پھول اور آواز کی طرح ہیں۔ جب وہ آئین کی سختی سی پابندی کرتی ہیں تومضبوط اورسر بلند ہوجاتی ہیں مگر جب وہ تارک آئین ہو جاتی ہیں تو اپنی آبرو کھوبیٹھتی ہیںاور ان کی قوت و شوکت کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ اقبال مسلمانوںکومخاطب کرکے کہتے ہیں کہ تمھیں معلو م ہے کہ تمہار ا آئین کیا ہے ؟ تمہاری عزت وآبرو کارازکیا ہے ؟ پھرخودہی جواب دیتے ہیں کہ ” قرآن حکیم جو زندہ کتاب ہے، جس کی حکمت لازوال ہے، جس کی صداقت میں بال برابر فرق نہیں، جس کی سچائیاں ہمیشہ رہنے والی ہیں، جس کی آیات ابدی حقائق کی ترجمان ہیں جو نوع انسانی کی نام خدا کاآخری پیغام ہے، جسے رحمتہ اللعٰلمین لائے ، یہ وہ آئین حیات ہے جس نے ایک منتشر اور ان پڑھ گروہ کو ایک عظیم الشان قوم بنا دیا۔ قرآن حکیم کی حکمت و ہدیت اور اس کی انقلاب آفرینی سے بحث کرنے کے بعد اقبال کواس بات پر افسوس ہے کہ ایسی عظیم الشان کتاب کی موجودگی میں اور ایسی سرچشمہ ہدایت کے پاس ہوتے ہوئے مسلمان شیوہ ہائے کافری میںگرفتار ہوگئے ہیں۔