Monday, 1 June 2015

علامہ اقبال اور اسلامی تشخص

علامہ اقبال اور اسلامی تشخص
پروفیسر سید ضیاءاﷲ ضیاء
پھول کی پتی پرغور کرو،جب پتیاںآئین کی پابندی کرتی ہیںتو پھول بن جاتی ہیں ۔ پھول آئین و اتحاد کے پابند ہوتے ہیں توگلدستے کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ آواز جب قانون موسیقی کی پابند ہو تی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے۔ قانون وآئین کی پابندی زندگی میں حسن، جازبیت اور قوت و عفت پیداکرتی ہے۔ قومیں بھی پھول اور آواز کی طرح ہیں۔ جب وہ آئین کی سختی سی پابندی کرتی ہیں تومضبوط اورسر بلند ہوجاتی ہیں مگر جب وہ تارک آئین ہو جاتی ہیں تو اپنی آبرو کھوبیٹھتی ہیںاور ان کی قوت و شوکت کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔
............ 
ریاض ملت پر خزاں مسلط ہو چکی ہے ۔ با د سموم کے جھونکوں نے ہرے بھرے درختوں کوخشک کر دیاہے۔ برگ وگل مرجھا کر گر پڑے ہیں۔ ایک آدھ پتا کہیں مثل چہرہ ¿مدقوق زرد نظر آتا ہے۔ یا س وقنو ط کے اس اندوہناک سماں میںکسے امید ہوسکتی ہے کہ یہ اجڑا چمن پھر آباد ہو گا لیکن آئین قدرت ہے کہ انحطاط و زوال کے وقت خدا کے بندے پیدا ہوتے ہیں اور امت مسلمہ میں توایسے ایسے صاحبان فکر و بصیرت پیدا ہوتے ہیںجو بموجب حدیث شریف بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کے سے کام کر دکھاتے ہیں۔ چناںچہ شعراءمیں سے حالی مرحوم نے اس کااحساس کیا اور قوم پر بڑی لے دے کی ۔ ہر چند کہ دل میں بڑا درد تھا لیکن صدیوں کے نشے کو چند طعنوں سے اتارنا مشکل تھا۔ اکبر مرحوم نے بھی جب دل کو ٹیس سی محسوس ہوئی تومریض کو ہو ش میں لانے کے لیے کچوکے دیے اور حقیقت ہے کہ خوب دیے اور ہنساہنسا کر اور گدگدا کر ایسے ایسے پتے کی باتیں کہہ گئے کہ جو تن لاگے سو تن جانے ۔ لیکن مرض کی کہنگی او رمریض کی ضد سے وہاں بھی یاس کا پہلو غالب رہا ۔
قدرت کاملہ نے بانگ دراکی خدمت کسی اور کے حصے میں رکھی تھی ۔ وقت آیا اور وہ ہستی پنجاب کی غیر معروف سے مقام میں اقبال کی نام سے منقہ شہود پر جلوہ فگن ہوئی۔ اس کی چشم حقیقت بین نے واقعات کوچھوڑ کر ان کے علل و اسباب پر غور کرناشروع کر دیا اورمحسوس کیا کہ فقدان عمل ،بے حسی ا ورمردہ دلی کا راز صرف اتنا ہے کہ سینوں میں دل اوردلوں میں آرزوئیں اورامنگیں جوش اورولولے پیدا کرنے والی حرارت نہیں۔ آتش دان ہیں لیکن افسردہ اور ٹھٹھرے ہوئے ۔ اورعلت مرض یہ ہے کہ قوم اپنی حقیقت سے بی خبر ہو چکی ہے۔افراد ملت کا نظریہ ¿ حیات متشائم ہوچکا ہے۔ لہذٰا سب سے پہلی چیز یہ کہ انھیں ان کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے، ان کو ممکنات زندگی کی وسعتوں سے روشناس کرایا جائے اورمثنوی ¿ روم کے تمثیلی شعر کی طرح جو ایک عرصے تک بھیڑوں کے گلے میں پرورش پا کر اپنے آپ کو بھیڑ ہی شمار کرنے لگا تھا، کسی آئینے میں اس کے اصل خدوخال سے واقف کرا دیاجائے ۔
شیر بیدار ازفسوں میش خفت
انحطاط خویش را تہذیب گفت
 ہر چند مرض ناسور ، مریض ضدی اور ضدی بھی ایسا کہ خوددر دکو دوا سمجھنے لگا تھالیکن اقبال کی پیشانی پر شکن نہیں آئی ، اس نے طبائع کی کمزوریوںکو حقارت کی نگا ہ سے نہیں دیکھا بلکہ ان کے حال زبوں پررحم کھایا اور مشفقانہ طورپر گری ہوئے کواٹھایا اوراٹھاکرسینے سے لگایا۔ یہ حقیقت ہے کہ اقبال ؒ موجودہ صدی میں ملت اسلامیہ کے ذہن کے اولین معمارتھے۔ اسلامی فکر کی تشکیل جدید اور اس کی فکری اور جذباتی رجحان کوتبد یل کرنے میںان کا حصہ سب سے نمایاںہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب کاجائزہ لیااوران کی تشخیص کے بعد اسلام کے حقیقی تصور حیات اور اس کی بنیادی اقدار کو ان کی اصلی شکل میں پیش کیا۔ اسلام کی جو تشریح اقبال نے کی، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی اور انقلابی پہلوہے۔ اپنے مقصد کے تحت انھوں نے ایک اسلامی فکر کی تشکیل جدید کی۔ مغربی افکاراور ان کے زیر سایہ رونماہونے والی مختلف تحریکوں پر سخت تنقیدکی اورقوم کوتمدنی اورسیاسی اعتبارسے اسلام کی تعلیمات اختیارکر نے کی تلقین کی ۔ انھوںنے قومیت کے حقیقی تصور کو اجاگرکیا اور اس طرح مسلمانوں میں اتحاد اسلامی کے جذبات کوتقویت پہنچائی۔اقبال نے دنیائے اسلام کے ناقابل تقسیم ہونے کا خیال پیش کیا اور جدیدحالات کے تحت عالم اسلام کے اتحادپر زوردیا، خواہ یہ اتحادعالمگیر اسلامی ریاست کی صورت میںہویا متعدد اسلامی آزاد ریاستوںکی صورت میں جن کے ماہدات و مثاقات خالص معاشی اوردنیاوی مصلحتوںپر مبنی ہوں ۔ اس طرح انھوں نے الماوروی کی تائید میں مسلمانوں کے مرکز پر بھی غور کیا اورسید جمال الدین افغانی کے اس تصور کوبھی تسلیم کیا کہ مکہ معظمہ مسلمانوںکا مرکز توحید رہے گا۔
 
اس زمانے میں یورپ میںوطنی قومیت کاتصور ایک طرح کا سیاسی مذہب بن گیاتھا۔ اوریورپ کی ہرطاقت ور قوم کی قوت کاسر چشمہ وطن پرستی کے جذبات ہی میں موجود تھا۔ اقبال کے خیال میں اسلامی اتحاد بجائے خود ایک سیاسی وحدت ہے۔ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
 ”
نئے سکول کے مسلمانوںکومعلوم ہو گا کہ یورپ جس قومیت پرناز کرتا ہے، وہ محض بودی اور سست تاروںکابناہو ا ایک ضعیف چیتھڑا ہے۔ قومیت کے اصول کماحقہ صرف اسلام ہی نے بتائے ہیں۔ جن کی پختگی وپائیداری مرورایام واعصار سے متاثر نہیںہوسکتی ۔
اقبال کے خیال میں عالم اسلام کاانتشار اہل مغرب کی طرف سے پیدا ہوا ہے۔ ان کی کوششیں رہی ہیں کہ مسلمانوں کو ایک دوسری سے علاحدہ کر دیاجائے اور انھیں کسی طرح متحد نہ ہونے دیاجائے۔
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کوکردیتاہے گاز
 اس سلسلے میںوہ لکھتے ہیں :
 ”
مجھ کویورپی مصنفوںکی تحریروںسے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی ہے کہ یورپ کے ملوکانہ اغراض اس امر کے متضاضی ہیںکہ اسلام کی وحدت دینی کوپارہ پارہ کرنے کے لیے ا س سے بہتراور کوئی حربہ نہیںکہ اسلامی ممالک میں فرنگی نظریہ ¿ وطنیت کی اشاعت کی جائے ۔یہی چیز ہندوستان میں مسلمانوں کی تباہی اورزوال کا باعث تھی۔ اقبال باربار ان امراض سے محفوظ رہنے کی تلقین کرتے ہیں:
   ربط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
  
ایشیا والے ہیں اس نقطے سے اب تک بے خبر
اقبال کے نزدیک اسلام میںقومیت کے دوبنیادی عقائد ہیں: اول توحیداور دوم نبوت ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ مسلمان قومیت رنگ ونسل یا زبان و ادب کے اتحاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ کی اساس پر قائم ہے۔ ”رموز بے خودی “کے تیسرے چوتھے ، پانچویں اورچھٹے باب میں اقبال نے تو حید پر مفصل بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی فلاح کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں توحید کا عقیدہ راسخ ہو جائے ۔ ا ن کے ادراک کی خامی اسی عقیدے کی بدولت دورہوتی ہے۔ اس کے سائے میںپست سر بلند ہوتے ہیں اور خاک کے پتلے فوری نہاد اور مولاصفات بنتے ہیں۔ فر د کے لیے توحید حکمت وخیر،تمکین ووقار اور قوت حیات کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے ۔
پست اندر سایہ از گرد ز بلند
خاک چوں اکسیر گردو ارجمند
 جو انسان رمز توحید کو پالیتا ہے اس کے راستے کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں۔ اس کے دل کا تذتذب دو رہوجاتا ہے او رکائنات کی حقیقت اس کے ضمیر پرروشن ہو جاتی ہے۔ ایک خداپرایمان لانے کے معنی یہ ہیںکہ ہم ہرلحاظ سے ایک ہوں ۔ ہمارے مقاصد اورنصب العین ایک ہوں ۔ ہماراانداز نظر ایک ہو ۔ ہماراطرز عمل ایک ہو۔ ہمارے لیے خو ب و ناخوب کا معیارایک ہو ۔ توحیدپرستوں کے فکروعمل میںکامل یک رنگی اور ہم آہنگی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جب سب کا خالق ومالک ایک ہے تو پھر گورے اور کالے اور امیروغریب میں امتیاز غیر حقیقی ہے۔ رموز میں اقبال نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توحید ہماری قومیت کی جان ہے۔ ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہے اور توحید اس کی روح رواں ۔ یہی رشتہ افکار و اعمال کا شیرازہ بند ہے۔
ماز نعمت ہائے او اخواں شدیم
یک زبان و یک دل و یک جاں شدیم !
 اسلامی قومیت کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ رمو ز کے ساتویں باب میں اقبال ؒ ذات رسالت مآب صلی اﷲ علیہ و سلم کی مرکزی حیثیت کو واضح کیا ہے ۔ مسلمانان عالم دنیا کی مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ وہ مختلف زبانیں بولتے ہیںاور مختلف سیاسی حالات سے دو چارہیں۔ اس کے باوجود ان میں وحدت کاا حساس صرف رسالت کی بدو لت ہے ۔جب ملت کا وجود اتحاد جناب رسالت مآب صلی اﷲ علیہ و سلم کا رہین منت ہے ، تو پھر رسالت سے ہمار ا رشتہ جس قدر محکم ہوگاقوم میںاس قدر زندگی اور تابانی بڑھی گی۔ جس قدر یہ رشتہ کمزور ہوگا ملت کمزورہو گی ۔ دامن رسالت کو ہاتھ سے چھوڑناگویااپنی ضعف وانتشار کو دعوت دینا ہے۔
ازرسالت ہم نوا گشتیم ما
ہم نفس ہم مدعا گشتیم ما
از رسالت درجہاں تکوین ما
ازرسالت دین ما آئین ما
تو حید اوررسالت اورملت اسلامیہ کی خصوصیات بیان کرنے کے بعداقبال نے قرآن حکیم کوملت کا آئین قراردیا ہے او رکہاہے کہ قوم کا نظام بغیرآئین کے استوارنہیںہوتا اور ملت اسلامیہ کاآئین صرف اور صرف قرآن حکیم ہے۔ اقبال کہتے ہیںکہ پھول کی پتی پرغور کرو،جب پتیاںآئین کی پابندی کرتی ہیںتو پھول بن جاتی ہیں ۔ پھول آئین و اتحاد کے پابند ہوتے ہیں توگلدستے کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ آواز جب قانون موسیقی کی پابند ہو تی ہے تو نغمہ بن جاتی ہے۔ قانون وآئین کی پابندی زندگی میں حسن، جازبیت اور قوت و عفت پیداکرتی ہے۔ قومیں بھی پھول اور آواز کی طرح ہیں۔ جب وہ آئین کی سختی سی پابندی کرتی ہیں تومضبوط اورسر بلند ہوجاتی ہیں مگر جب وہ تارک آئین ہو جاتی ہیں تو اپنی آبرو کھوبیٹھتی ہیںاور ان کی قوت و شوکت کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ اقبال مسلمانوںکومخاطب کرکے کہتے ہیں کہ تمھیں معلو م ہے کہ تمہار ا آئین کیا ہے ؟ تمہاری عزت وآبرو کارازکیا ہے ؟ پھرخودہی جواب دیتے ہیں کہ ” قرآن حکیم جو زندہ کتاب ہے، جس کی حکمت لازوال ہے، جس کی صداقت میں بال برابر فرق نہیں، جس کی سچائیاں ہمیشہ رہنے والی ہیں، جس کی آیات ابدی حقائق کی ترجمان ہیں جو نوع انسانی کی نام خدا کاآخری پیغام ہے، جسے رحمتہ اللعٰلمین لائے ، یہ وہ آئین حیات ہے جس نے ایک منتشر اور ان پڑھ گروہ کو ایک عظیم الشان قوم بنا دیا۔ قرآن حکیم کی حکمت و ہدیت اور اس کی انقلاب آفرینی سے بحث کرنے کے بعد اقبال کواس بات پر افسوس ہے کہ ایسی عظیم الشان کتاب کی موجودگی میں اور ایسی سرچشمہ ہدایت کے پاس ہوتے ہوئے مسلمان شیوہ ہائے کافری میںگرفتار ہوگئے ہیں۔

اقبال بحیثیت نثرنگار

اقبال بحیثیت نثرنگار
محمد شہاب الدین

ڈاکٹراقبال کے متعلق بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور مختلف علمی میدانوں میں دنیا ان کی خداداد قابلیت و ذہانت کو خراج عقیدت پیش کر چکی ہے۔ آج دنیا ان کو شا عر مشرق، شا عر فلسفی اور فن شاعری کا امام تسلیم کرتی ہے۔ لیکن معلوم ہو نا چا ہئے کہ اقبال کی پہلی تصنیف کا تعلق نہ شاعری سے ہے،نہ فلسفے سے بلکہ نثر سے ہے۔ جو ۱۹۰۳میں علم الاقتصاد کے نام سے ۲۱۶ صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع ہوئی۔ جن میں معاشیات جیسے دقیق اور اہم مسائل کو نہایت واضح اور خوب موثر انداز میں سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اردو زبان میں اپنی نو عیت کی پہلی کتاب ہے۔ جس کو بیسویں صدی کی علمی نثر کا اعلیٰ نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ چوں کہ اس زمانے میں اس طرح کے علمی موضوعات کو اردو میں پیش کر نے کی کوئی باقاعدہ روایت نہیں تھی، ڈاکٹر اقبال نے اپنی اس کتاب میں اس طرح کے مشکل موضوعات کو بڑی روانی کے ساتھ پیش کیا۔ ظاہر ہے اس قسم کے علمی موضوعات کو آسان، سادہ اور عام فہم زبان میں پیش کردینا کسی کار نامہ سے کم نہیں ہے۔
اقبال نے فن شعر ہی کو ذریعہ اظہار نہیں بنایا بلکہ تقریروں، نثری تحریروں اور خطو ں کے ذریعہ بھی وہ اپنے خیا لات و نظریات کا اظہار کر تے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ان کو بحیثیت شاعر ہی جانتے ہیں لیکن یہ ایک امر مسلم ہے کہ وہ ایک اچھے نثر نگار بھی تھے۔ یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ان کی تقریروں اور تحریروں کو جو اہمیت دینی چا ہئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ ان کے آج بھی بہت سے مضامین ہیں جو مختلف رسالو ں کی زینت بنے ہو ئے ہیں۔ جبکہ اس طرح کے کارآمد اور قیمتی اثاثہ کو اب تک کتابی شکل میں ہو نا چاہئے۔ تاکہ لوگ ان رو شن خیال اور فکرانگیز تحر یر سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ افکار اقبال کے گنج ہائے گرا نمایہ صرف ان کے اشعار کے مجمو عے ہی نہیں، ان کی تحریریں بھی ہیں جن کو پڑھ کر اقبال کے کلام کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آج اقبال کو لو گو ں نے ابتدا سے انتہا تک شاعر ہی مان لیا ہے۔ حالانکہ اقبال کی ان تحریروں کو پڑھ کراندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پا یہ نثر نگا ر بھی تھے۔ ان کے نثری افکا ر کے خصو صی مطالعہ کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان کے نثری افکار کا جو سرمایہ ہما رے سامنے آیا وہ بہت تھوڑا تھا اور جو کچھ آیا وہ کئی برس پہلے آیا تھا۔ ادھر چند سال ہوئے اقبال کے مکاتب اور کچھ نایاب تحریروں کے چند اور مجمو عے سا منے آئے ہیں۔ لیکن اب تک جو کام ہوناچاہئے تھا وہ اب بھی باقی ہے۔
علامہ اقبال کے مضامین کو سب سے پہلے حیدر آباد میں تصدق حسین صاحب حیدرآبادی نے مضامین اقبال کے نا م سے شا ئع کیا۔ اسی کو بنیاد بناکر اضافے کے ساتھ سید عبدالواحد معینی نے مقالات اقبال کے نام سے شائع کیا ہے۔ عبد الواحد صاحب نے اس مجمو عے میں علا مہ کے ان تمام مضامین و مقالات کو یکجا کردیا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف رسائل و اخبار میں لکھے تھے۔ غرض اس مجمو عے میں علامہ کی بیشتر ایسی بکھری ہوئی نثری تحریریں یکجا ہیں جو انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین و مقالات کی صورت میں شائع کروائی تھیں۔ اس اعتبار سے دیکھی جائے تو یہ واحد مجموعہ ہے جس میں علامہ کی بیشتر اہم تحریریں پڑھنے والوں کو یکجا ملجاتی ہیں۔ ان تصا نیف کے علاوہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ علامہ کے مکا تیب کے بیش بہا مجمو عے موجود ہیں۔ ان مکا تیب میں بھی علامہ نے زیادہ تر ادبی یا فنی موضو عات سے بحث کی ہے۔ اقبال نامہ، علامہ اقبال کے مکاتیب کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اکبر الہ آبادی، قا ئد اعظم محمد علی جناح، بابائے اردو مولوی عبد الحق اور بعض دوسرے ہم عصروں کے نام لکھے ہیں۔ اس مجمو عہ کو شیخ عطا ء اللہ نے ۱۹۴۳ میں مرتب کیاہے۔ ان خطوط سے علامہ کی سیر ت و شخصیت پر روشنی پڑ تی ہے، مختلف موضوعات پر ان کے خیالات و نظریات کا اندازہ ہو تا ہے اور ان کے اسلو ب نگارش کی صحیح قدر و قیمت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس مجمو عے کے ایک خط کے اقتباس سے اس کی حقیقت کا صحیح طور پر اندازہ ہوگا؛
مکرم بندہ جناب میر صاحب
السلا م علیکم
دو نوں رسالے پہنچے، سبحان اللہ نواب صاحب کی غزل کیا مزے کی ہے، افسوس ہے کہ اب تک میں نے آپ کے گلدستے کو کوئی غزل نہیں دی ....... ایک تکلیف دیتا ہوں، اگر آپ کے استاد حضرت مرزا داغ کی تصویر ہو تو ارسال فرمائیگا، بہت ممنون ہونگا۔ اگر آپ کے پا س نہ ہو تو مطلع فرمائیےگا کہ کہا ں مل سکتی ہے۔ میں نے تما م دنیا کے بڑ ے بڑ ے شاعرو ں کے فوٹوز جمع کر نے شروع کئے ہیں ...... اگر آپ کو معلوم ہو تو از راہ کرم جلد مطلع فرمائیں۔ حضرت امیر مینائی کے فوٹو کی بھی ضر ورت ہے۔
و السلام
خاکسار محمد اقبال
قارئین کو اس مختصر سے اقتباس سے اندازہ ہو گیا ہوگا کہ علامہ کا مزاج کیا تھا۔ مطلب کی بات کس قدر سہل اورچھو ٹے چھوٹے جملے میں رکھتے ہیں۔ نیز ان کی نثر میں تکلف و تصنع کی پیچیدگیاں بالکل نہیں دکھتی۔ ہر کوئی آسانی کے ساتھ ان کی بات سمجھ سکتا ہے۔
نثر اقبال کا ایک اہم موضوع قومی ملی زندگی ہے۔ اس مو ضوع پر انہو ں نے کوئی با قاعدہ ضخیم کتاب تو نہیں لکھی ہے لیکن جو کچھ انہوں نے اپنی شاعری میں لکھا ہے اس کی تفسیر اس کے مضامین نثر میں ملتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مضمون ’’بچو ں کی تعلیم و تر بیت ‘‘ کے عنوان سے ہے جو ۱۹۰۲ میں مخزن میں شائع ہوا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۱۹۰۴ میں ’’مخزن ‘‘میں قومی زندگی پر ایک مفصل مضمون ’’قومی زندگی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بھر اس کے بعد اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں علامہ نے خلا فت اسلامیہ، ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر، جیسے اہم قومی و ملی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان مضامین کے علاوہ دیباچۂ مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ اور دیباچہ ’’پیام مشرق‘‘ میں بھی انہوں نے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان میں سے ہر نثری تحریر بہ حیثیت مو ضوع اور اسلوب خاص اہمیت کی حامل ہے۔
اقبال کے اسلو ب کی اہم خصو صیت یہ ہے کہ وہ سنجیدہ اور علمی موضوعات کو بھی دلچسپ اور پر لطف بناکر پیش کرتے ہیں۔ شاعری کی طرح ان کی نثر میں بھی بعض جگہ تصویر کشی کے نمونے ملتے ہیں خاص طور پر کسی علمی نکتے کی وضاحت کے سلسلے میں جب وہ کو ئی واقعہ بیان کرتے ہیں تو ان کا تخیل کچھ ایسی تصو یریں بناتا ہے جو جاندار اور بولتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
’’لا ہور کے کسی محلے میں جا نکلو ،ایک تنگ و تاریک کوچے پر ہما ری نظر پڑےگی جس وحشت زا سکوت کے طلسم کو رہ رہ کر لا غر، نیم برہنہ بچو ں کی چیخ و پکار یا کسی پردہ نشیں بڑھیا کی لجاجت آمیز صدا توڑتی ہوگی جس کی سوکھی اور مرجھائی ہوئی انگلیاں بر قع میں سے نکل کر خیرات کے لئے پھیلی ہو ئی ہونگی‘‘۔
مسلمان قوم کی تباہ حالی، خصوصا غربا ء کی اس پامالی کا نقشہ دیکھ کر افسردگی کا احساس ہوتا ہے۔ جزئیات یعنی لاغرونیم برہنہ بچوں کی چیخ و پکار اور پردہ نشیں بڑھیا کی سوکھی مرجھائی اور خیرات طلب کرتی انگلیاں اس عبارت کا وصف خا ص ہیں۔ یہ جزئیات دل کو متا ثر کرتی ہیں اور افلاس و غر بت کی تصویر حواس پر چھا جاتی ہے۔
اقبال کی تحریروں میں مشاہدے کی شد ت، جذبا ت کی ہیجان انگیزی اور تخیل کی بلند پروازی یہ سب صفات مل کر واردات و کیفیات کی ایسی تصویروں کو بےنقاب کرتی ہیں جو منھ سے بولتی ہو ئی نظر آتی ہیں۔
علامہ کو تفکرات زمانہ اور گونا گوں مصروفیتوں نے اس کی مہلت نہ دی کہ وہ اردو نثر کو بھی اپنی غیر فانی نظموں کی طرح ایک گراں سرمایہ عطا کریں۔ پھر بھی جس ادیب کی پہلی تصنیف نظموں کو چھوڑکر اردو نثر میں ہو اور جو اپنی معر کتہ الآراء نظموں کے ساتھ اردو میں بیش بہا نثر بھی لکھتا رہا ہو۔ اس کی نثر نگاری کو نظر انداز کرنا صریح طور پر ناانصافی ہوگی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ اقبال نے اس زمانے میں جو نثر لکھی وہ مقدار میں کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اس میں اس عہد کے رجحانات کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ان کی نظم کے ساتھ ساتھ نثرمیں بھی ان کی انفرادیت کا احسا س ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کی تمام نثری تصانیف ان کی اسی انفرادیت کی تصویریں ہیں جن سے ان کی ادبی اور فن کار انہ شخصیت کی عظمت کا اندا زہ ہو تا ہے۔