Monday, 27 April 2015

شکوہ، جواب شکوہ

شکوہ، جواب شکوہ



شکوہ، جواب شکوہ علامہ اقبال کی دو طویل نظمیں ہیں جو بانگ درا، گھنٹیوں کی صدا کے اوراق کی زینت ہیں، شکوہ اپریل 1911ءمیں لکھی گئی ریواز ہوسٹل اسلامیہ کالج کے صحن میں ہونے والے انجمن حمایت اسلام لاہور کے اجلاس میں اقبال نے سنائی۔
جواب شکوہ 1913میںاقبال نے لکھی یہ نظم موچی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام میں بعد نماز مغرب سنائی گئی۔ اس جلسے کا اہتمام مولانا ظفر علی خان نے کیا جواب شکوہ اسی جلسے میں ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئی، اوراس کی پوری آمدن بلقان فنڈ میںدے دی گئی
شکوہ اور جواب شکوہ لکھنے کی اقبال کو ضرورت کیوں ہوئی اس کے بارے میں مختلف شارع اپنی اپنی آراءرکھتے ہیں لیکن جس ایک پہلو پر سب کا اتفاق ہے وہ یہ ہے اقبال 1905سے 1908تک یورپ میںرہے۔ میونج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اور قانون امتحان برطانیہ سے پاس کیا۔
یورپ میں قیام کے دوران وہاں کی سائنسی، مادی، سیاسی، اقتصادی، معاشرتی ترقی اور تہذیبی اقدار کو اقبال نے بہت قریب سے دیکھا۔ اہل یورپ کی علمی لگن، عملی کوشش، سائنسی ترقی، جذبہ عمل اور حب الوطنی سے متاثر ہوئے۔ جب واپس ہندوستان آئے تو اہل یورپ کے برعکس مسلمانوں میں کاہلی، جمود، بے عملی ،غلامانہ ذہنیت، اقتصادی پسماندگی اور عملی ذوق و شوق کا فقدان دیکھ کرآزردہ خاطر ہوئے مسلمانوں کی اسلام سے محض زبانی عقیدت، خدا کی محبوب قوم ہونے کا عجیب احساس، اسلام کا شیدا ہونے کا دکھادے کا اعتقاد، قرآن مجید کی تعلیمات سے دوری اور اسوہ رسول سے وابستگی کے خیالی دعوے اقبال کی پریشیانی کا باعث بن گئے۔ ان ساری باتوں کے باوجود مسلمان ہر وقت دین و دنیاکی برکات چھن جانے کا خدا سے شکوہ بھی کرتے ہیں۔یہی نظم شکوہ کا بنیاد ی تصور ہے۔
شکوہ جب اقبال نے لکھی تب صرف ہندوستان کے مسلمان ہی زبوں حالی کا شکار نہیں تھے۔ ایران، ترکی، مصر اور افریقہ کے مسلمانوں کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔ طرابلس اور بلقان کی جنگوں نے مسلمانوں کے احساس زوال کو مزید شدید کردیا تھا۔ جس نے اقبال کو شکوہ، جواب شکوہ جیسی انقلابی نظمیں لکھنے کی تحریک دی۔
علامہ اقبال حکیم امت، نباض ملت اور مفکر اسلام ہیں۔ انہوں نے موجودہ عہد کے مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور زمانہ قدیم کے مسلمانوں کے عروج کی وجوہات کو دونوں نظموں کا مرکزی خیال بنایا، تاکہ مسلمان اپنے شان دار ماضی سے زوال پذیر حال کو دیکھیں اور روشن مستقبل کا سراغ لگاسکیں۔
مسلمانوں کے طرز عمل سے نالاں اقبال اسلام کے عظیم ماضی کوحسرت سے دیکھتے، حال کا جائزہ لیتے تو بے بسی سے سپر ڈال دیتے۔ مگر ان کی مایوسی اور ناامیدی انہیں کشاں کشاں تاریکی سے روشنی کی طرف لے آئی۔ مسلمان بلقان سے نکالے جاچکے تھے۔ ایران موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ طرابلس کے میدان مجاہدین کے خون سے لالہ زار تھے۔ اس دور میں اقبال نے جو نظمیں لکھیں ان کے اثر سے ہندی مسلمانوں میں جوش پیدا ہوا۔ جس پر انہوں نے شکوہ، جواب شکوہ لکھیں۔
یاد رہے انجمن حمایت اسلام کے اجلاس میں اقبال نے جب شکوہ پڑھی تو لوگ پھولوں کی جھولیاں بھر کر لاے اور علامہ پر گل پاشی کی اقبال کے والد گرامی بھی اس محفل میں موجود تھے۔ سیرت اقبال میں سر عبدالقادر نے لکھا ہے اقبال کے والد بیٹے کی کامیابی پر نازاں اور تاثر کلام سے آبدیدہ تھے۔
شکوہ، جواب شکوہ کے حوالے سے حکیم محمد حسن قرشی لکھتے ہیں شکوہ نذرت تخیل، حقیقت نگاری اور شاعرانہ مصوری کی شان ہے۔ شرح بانگ درا میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں ان نظموں میں اقبال کا لہجہ ویسا نہیں جیسا دیگر پیغامی اور حکیمانہ نظموں میں ہے۔ اتفاق سے یہی ان نظموں کی خصوصیت ہے۔
پروفیسر وقار عظیم، معیار اقبال نمبر میں لکھتے ہیں یہ دونوں نظمیں بیک وقت عظمت رفتہ کی تاریخ اور دعوت عمل کا بہترین طریقہ ہیں۔ ادبی دنیا کے ایڈیٹر عبداللہ قریشی کے مطابق شکوہ اسی ذہنیت کا آئینہ دار ہے جو یہودیوں، عیسائیوں اور دیگر امتوں میں پائی جاتی ہے۔ یعنی ہم خدا کی منتخب اقوام ہیں۔ ہمارے عقائد برقرار ہیں، اعمال کا کوئی سوال نہیں، بس دوسروں کے سامنے ذلیل اور بے بس نہیں مرنا چاہیے
ڈاکٹر خلیفہ سید الحکیم ”فکر اقبال“ میں بیان کرتے ہیں، شکوہ میں اخلاق و ایثار کے جتنے دعوے ہیں وہ اسلاف کے ہیں، اقبال اخلاف کے متعلق ایسے دعوے نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں کے اعمال اور سیرت کا نقشہ وہی ہے جو جواب شکوہ میں خدا کی زبان سے بیان ہوا ہے۔ خدانے مسلمانوں کے ایک ایک باطل دعوے کو توڑا ہے۔
شکوہ میں اللہ سے جو شکایات ہیں۔ وہ اقبال کا ذاتی نکتہ نظر نہیں بلکہ ایک عام مسلمان کے انداز فکر کی ترجمانی ہے عام مسلمانوں کا حال تو یہ ہے وہ دعا بھی ایسے مانگتے ہیں جیسے اللہ سے دیا ہوا قرض واپس لے رہے ہوں۔ حالانکہ ایک غلام کی کیا حیثیت ہے۔ وہ سارا دن اگرخون پسینہ ایک کرکے مشقت کرے اور جو معاوضہ اسے ملے وہ اس کا مالک لے لے تو بھی غلام کو اُف و فریاد کرنے کی مجال نہیں۔ مسلمان تو شکر کے بجائے شکوہ کرنا جانتے ہیں یہی اقبال مسلمانوں کو اپنی نظم شکوہ میں باور کرانا چاہتے تھے۔
مسلمان اس قرآنی حقیقت سے نابلد ہیں۔ ”اللہ نے دنیاوی ترقی اور تسخیر کائنات کیلئے مخصوص قوانین مقرر کردیتے ہیں۔ جو قوم آئین خداوندی کی پابندی کرے گی وہ مسلم ہو یا غیر مسلم وہ اس کے حیات بخش ثمرات سے فیض یاب ہوگی نماز، روزہ، حج، زکوة جیسی اہم عبادات کو ان کی روح کے مطابق ادا کرنے سے بلاشبہ انفرادی، روحانی، اجتماعی، اقتصادی، سیاسی، اخلاقی اور سماجی زندگی کو نکھار تو ملے گا۔ تاہم روحانی اور مادی ترقی کیلئے قدرت کے مخصوص نظام اور قوانین سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا خدا کو اپنے آئین کی پابندی منظورہے، خدا کے قوانین پر عمل کرنے والی قومیں متعین نتائج سے محروم نہیں رہتیں، قرآن مجید نے تسخیر کائنات اور مادی ترقی کیلئے علم، جدوجہد، مطالعہ اور عمل کو لازم قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ”بے شک اللہ عمل کرنے والوں کے عمل ضائع نہیں کرتا جس شخص نے بلب ایجاد کیا ہے وہ کتنا بڑا عامل ہے کتنا بڑا محسن ہے۔ جواب شکوہ میں اقبال نے اللہ کی طرف سے یہی مسلمانوںکو بتایا ہے۔
عقل کے استعمال اور عمل کی دولت سے محروم شخص آئین خداوندی کی رو سے تسخیر کائنات اور مادی ترقی کے راز نہیں پاسکتا۔ اقبال قوانین فطرت اور اس کے مخصوص نتائج سے آگاہ تھے اسی لئے انہوں نے شکوہ میں مسلمانوں کی علم و عمل سے روگردانی کا تذکرہ کیا ہے اور جواب شکوہ میں آئین خداوندی کے مطابق نہ چلنے والوں کی تصویر دکھائی ہے۔
انگلستان کے مشہور متشرق پروفیسر جے آربری کے مطابق اقبال کی مشہور نظمیں شکوہ، جواب شکوہ میں اسلام کی عظمت رفتہ کی روشنی میں مسلمانوں کو ترقی کی راہ اختیار کرنے کا درس دیا گیا ہے شاعر نے ان دونوں نظموں میں اپنے ماضی اور حال کو بڑی مہارت سے یکجا کیا ہے۔ یوں تو شکوہ کے ہر شعری بند کا جواب شکوہ میں توڑ موجود ہے لیکن یہاں ہر ایک کو زیر بحث لاناممکن نہیں، موازنے کیلئے صرف ایک آدھ پر ہی اکتفا کیا جاسکتا ہے جیسے:

تجھ کو چھوڑ کہ رسول عربی کو چھوڑا؟
بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟
رسم سلمانؓ واویس قرنی کو چھوڑا؟
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں
ان اشعار کا شافی جواب ، جواب شکوہ میں اس طرح دیا گیا جس میں بے شمار سوالات پوشیدہ ہیں
کون ہے تارک آئین رسول مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیار؟
ہوگئی کس کی نگہ، طرز سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں
ایسے ہی شکوہ کے آغاز میں اقبال نے مسلمانوں کی جانب سے اللہ سے کلام کیا ہے
اے خدا! شکوہ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بن سن لے
اس شعر کا جواب، جواب شکوہ کے آخری شعر میں دے کر اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو لاجواب کردیا گیا ہے
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہاں فکر انگیز سوال یہ ہے، مسلمانوں سے اللہ محمد کے لئے کون سی وفا کا طالب ہے جس کے بدلے میں وہ یہ جہاں کیا، لوح و قلم تک دینے پر تیار ہے یہ راز اللہ والے ہی بتا سکتے ہیں اپنے محبوب کیلئے اللہ کو مسلمانوں سے کیسی وفا مقصود ہے تاہم میاں محمد بخش نے سمجھانے کے لئے قابل ذکر بات کی ہے ”جبرائیل جہے جس چاکر نییاںداسر کردہ“ مطلب یہ ہے محمد تمام نبیوں کے سردار ہیں اور جبرائیل جیسے آپ کے نوکروں کے نوکر ہیں ۔چاکر مطلب نوکروں کا نوکر ہے۔ تو میاں محمد صاحب نے یہ سمجھانا چاہا ہے جب حضور پاک کا مرتبہ اور مقام یہ ہے تو پھر آپ سے وفا کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہے، جو اللہ کو پسند ہے۔

علامہ اقبال اور سماجی تعمیر نو

علامہ اقبال اور سماجی تعمیر نو





ڈاکٹر نکلسن کے نام 24 جنوری 1921ءکے خط میں علامہ اقبال نے لکھا کہ میری شاعری اور ساری جستجو کا مقصد یہ ہے کہ ’عالمی سما جی تشکیل نو‘ کی جائے اور میں نے اپنی شاعری میں اسلام کی اقدار و تعلیمات کو پیش نظر رکھا ہے ۔کیوںکہ عقلاً یہ بات محال ہے کہ اس کوشش میں ایک ایسے معاشرتی نظام کو نظر انداز کر دیا جائے جس کا واحد مقصد ذات پات، مرتبہ درجہ، رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو مٹا دینا ہے۔ اقبال نے یہ خط نکلسن کو اس وقت لکھا جب نکلسن کے اسرار خودی کے انگریزی ترجمہ کے انگلستان میں مقبول ہونے کے بعد وہاں اقبال کے بنیادی تصورات کے بارے میں کئی مغالطے بھی پیدا ہونے شروع ہوئے۔ مثلاً دی ایتھینیم میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں علامہ ا ور نطشے کے خیالات اور ان کے انسان کامل اور نطشے کے فوق البشر کے تصور میں مماثلت و مشابہت تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اقبال نے اس خط میں اس کی تردید کی کہ انہوں نے اپنا انسان کامل کا تصور نطشے کے زیر اثر تشکیل دیا ہے۔ اقبال نے اس خط میں بڑے واضح طور پر لکھا کہ ان کا فکر و فلسفہ قرآن حکیم اور مسلمان صوفیاءکے افکار و مشاہدات سے ماخوذ ہے۔
ہم آج سماجی سطح پر انتشار و افتراق کا شکار ہیں۔ اس انتشار کے اثرات ہماری فکری و سماجی زندگی دونوں پر ہیں۔ دین کی بنیادی تعلیمات کی تعبیر میں غلطی کی وجہ سے ہماری کوششیں اجتماعی سطح پر تعمیر کی بجائے تخریب میں صرف ہو رہی ہیں۔ دنیا جس جنگ و جدل کے ماحول سے دو چار ہے ہر صاحب فکر اس کے خاتمے کی تمنا کرتا ہے۔ علامہ نے یکم جنوری 1938ءکو نئے سال کے پیغام میں فرمایا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ معاہدے، لیگیں، پنچایتیں اور کانفرنسیں دنیا کو جنگ و جدل اور خون ریزیوں سے نجات نہیں دے سکتیں ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان لیگوں اور کانفرسوں اور معاہدوں کے ذریعے سے طاقت ور قومیں کمزور قوموں کو اپنے ظلم و ستم کا شکار بنانے کے لیے زیادہ پُرامن وسائل اختیار کر لےں گی۔ ضرب کلیم کی ایک نظم میں علامہ نے مجلس اقوام متحدہ جیسے اداروں کے با رے میں انہی خیالات کا اظہار کیا:اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم
مکے نے دیا خاک جنےوا کو یہ پیغام
جمعےت اقوام کہ جمعیت آدم!
یعنی انسانیت کی نجات جمعیت اقوام میں نہیں بلکہ جمعیت آدم میں ہے۔ اس کے لیے ان کی آرزو رہی:طہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ¿ ارض کی تقدیر بدل جائے!
ایک ایسا شخص ہی اقبال کا مرد کامل ہے۔ اور اس مرد کامل کی نمود ایک ایسے معاشرتی نظام سے ہو سکتی ہے جو اپنے مزاج کے لحاظ سے آفاقی ہو اور انسانی ضمیر کو اپنا مخاطب بنانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ معاشرتی نظام اسلام ہے۔ کیونکہ انسانیت کے عالمگیر نصب العین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رنگ و نسل کا عقیدہ ہے اور اسلام اس عقیدے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اگر مسلم دنیا عالمگیر اخوت کے نصب العین کو نظر انداز کر کے نسل، علاقے، جغرافیائی حدود اور قومیت کے عقیدے کو اپنا لے گی تو وہ ایک ابلیسی اور گمراہ کن عقیدے کو اپنائے گی ۔ اقبال نے مسلمانوں کے اس عالمگیر نصب العین کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ انسانیت کی فلاح ان انجمنوں، عہدناموں اور لیگوں میں نہیں جو اس نے دنیا میں پیام امن کے لیے قائم کر رکھی ہیں بلکہ انسانی فلاح تمام انسانوں کی مساوات اور حقیقی حریت میں ہے جبکہ جدید جمہوری افکار اور نظام اس سے عاری ہیں:
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
روزنامہ احسان لاہور میں 9 مارچ 1938ءکو شائع ہونے والے مضمون ”اسلام اور قومیت“ میں لکھا کہ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ اسلام کے دستور کو قوم اور نسل پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا نہ ہی ہم اسے نجی و ذاتی معاملہ قرار دے سکتے ہیں بلکہ اس کو کلیتاً معتقدات پر مبنی قرار دیا جائے گا۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے جو عالم انسانیت کی جذباتی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ اس سے الگ رہ کر جو راہ اختیار کی جائے گی وہ لادینی ہو گی اور شرف انسانیت کے خلاف ہو گی۔ اس کی وضاحت میں علامہ نے لکھا کہ نبوت محمدیہ کا آخری مقصد اور نصب العین یہ ہے کہ ایک ایسا انسانی معاشرتی نظام قائم کیا جائے جس کی تشکیل حضور اکرم کے عطا کردہ قانون الہٰی کے تابع ہو۔ یعنی تمام بنی نوع انسان کی اقوام بے شک اپنے نسلی، علاقائی اور رنگ و زبان کے اختلافات کو تسلیم کریں مگر اس کے باوجود وہ ان کی محدود وابستگی سے آلودہ نہ ہوں جو زمانہ، علاقہ، وطن، قوم ،نسل اور نسب وغیرہ سے موسوم کیے جاتے ہیں۔ اس نصب العین تک انسانیت خود تو شاید صدیوں تک بھی نہ پہنچ سکتی مگر یہ مقام محمدی ہے کہ آپ نے انسانیت کواس کے قبائلی و نسلی اور رنگ و زبان کے امتیازات کے باوجود صرف تیرہ سال میں یک رنگ کرنے کا کام انجام دیا۔ علامہ نے اسلام کی اس بنیادی تعلیم کو نظر انداز کرنے کے عمل کو ملت اسلامیہ کے لیے تباہ کن اور خطرناک قرار دیا۔ آپ نے لکھا کہ جس طرح قادیانی نظریہ ایک جدید نبوت کی اختراع سے ملت اسلامیہ کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کی انتہا نبوت محمدیہ کے کامل و اکمل ہونے کا انکار ہے۔ اسی طرح اسلام کے عالمگیر انسانی نصب العین سے انحراف اور محدودوابستگیوں کا نظریہ بھی امت مسلمہ کی بنیادی سیاست اور شناخت کے کامل ہونے سے انکار کی راہ کھولتا ہے۔ یعنی وہ ہمیں ان مقاصد سے منحرف کرتا ہے جو اسلام کے آخری دین ہونے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ فکر اقبال ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم عالمگیر اخوت کے قیام کی جدوجہد کرتے ہوئے انسانیت کو باہمی افتراق، عدم برداشت اور انتہا پسندی کے ماحول سے نجات دلائیں :ہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا ، محبت کی زباں ہو جا

اقبال نوجوانوں سے کیا چاہتے تھے؟


اقبال نوجوانوں سے کیا چاہتے تھے؟



چ۔ و۔ افضل


سکول کے زمانے میں رٹے لگائے ہوئے علامہ اقبال کے اشعار کی سمجھ عموماً کافی عرصہ بعد آتی ہے۔ کچھ تو معلم بھی علامہ اقبال کے اشعار کے ساتھ صحیح انصاف نہیں کر پاتے اور طالب علم بھی بس امتحانات میں کامیابی کے لحاظ سے ہی اقبال کے اشعار کو لیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی روح کو سمجھنے کی کوشش کر لیں تو امتحانات کی کامیابی ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جائے گی ان کا زندگی میں کامیابی کا سفر شروع ہو جائے گا۔میں جب اقبال کے اشعار کو پڑھتا ہوں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میں خود کو ”جاوید“ سمجھتا ہوں۔ میں کیوں نہ خود کو جاویداقبال سمجھوں؟ جبکہ حضرت اقبال کے یہ شعر میرے سامنے ہیں :
تیرے صوفے ہیں افرنگی ،تیرے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
اور
جوانوں کو میری آہ سحر دے
پھر ان شاہین بچوں کو بال و پَر دے
ان اشعار میں آپ "آہ" اور "لہومجھ کو رُلاتی" جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن میں ایک باپ کی سوچ اور دکھ واضح نظر آتا ہے ایک شفیق باپ ہی اپنے بچوں کو ایسے نصیحت کرتا ہے جیسے حضرت اقبال کرتے ہیں۔ تو پھر میں کیوں نہ خود "جاوید اقبال" بن کر اقبال کے اشعار کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کروں۔ درج بالا اشعار میں بھی اقبال نوجوانوں کی دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے زور بازو پہ انحصار کرنے کی تلقین کرتے ہیں اقبال نوجوانوں کی تن آسانی اور عیش وعشرت پر رنجیدہ تھے۔ اقبال مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے نوجوانوں کو بچانا چاہتے تھے۔ جس نے اس زمانے میں ہی نوجوانوں کی نظروں کو خیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت وہ تہذیب جس طرح ہم میں سرایت کر چکی ہے اس کا اندازہ آپ نے بہت پہلے کر کے نوجوانوں کو اس سے بچانے کی کوشش کی۔ اقبال نے نوجوانوں میں خودی کے حوالے سے بہت کچھ لکھا۔ اقبال نوجوانوں سے یہی چاہتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو پہچان جان جائیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جز ہیں اور اپنی قابلیت کا درست استعمال کریں۔ علامہ اقبال کے یہاں ناامیدی ، محرومی، مایوسی، بزدلی اور کم ہمتی وغیرہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی بلکہ یقین محکم، عمل پیہم، بلند حوصلگی اولوالعزمی، ثابت قدمی اور بلند پروازی کا تصور انکے دماغ میں موجزن تھا۔ اور یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اس کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہیں۔ اقبال چاہتے تھے کہ قوم کے نوجوان آگے بڑھیں اس لیے کہ ان سے قوم کی ترقی وابستہ ہے۔ لیکن آج اگر کوئی آگے بڑھنے کی لگن رکھتا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ اس میں قوم کا مفاد ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے سامنے حریف کو بڑھتا نہیں دیکھ سکتا اور اسے نیچا دکھانے کے لیے وہ ہرممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔ علامہ اقبال نے نوجوانوں اور نئی نسل کو پیغام دینے کے لیے جن ذرائع یا یوں کہیے جن استعارات کا استعمال کیا ہے ان میں ایک سب سے اہم ذریعہ شاہین کا استعارہ ہے شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جس میں بلند پروازی، دور اندیشی اور خودداری جیسی صفات پائی جاتی ہیں۔ علامہ اقبال یہی سا ری خصوصیات نوجوانوں میں چاہتے تھے :
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں۔
گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال نوجوانوں کو انکا درخشاں ماضی یاد دلاتے ہوئے مستقبل کو اس سے بھی زیادہ بہتر کرنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن ماضی کی ہی خوبصورت یادوں میں کھوئے ہونے پر "جواب شکوہ" میں تنقید بھی کی ہے :
تھے وہ آباءتمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
اقبال آج کے نوجوان سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ان کی دور اندیشی اور حکمت سے بھرپور نصیحت آمیز شاعری سے کام لے کر اپنے حال اور مستقبل کو تابناک اور روشن بنا ئیں۔ اقبال کے پیغام کو نوجوان نسل تک احسن طریقے سے پہنچانے کی اشد ضرورت ہے تعلیمی نصاب میں زیادہ سے زیادہ اقبال کا کلام نہ صرف شامل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ نوجوانوں میں اس کلام کے اصل مفہوم کو پہنچانے کے لیے بھی اقبالیات کے ماہر اساتذہ کی ضرورت ہے۔

اقبالؒ اور اشتراکیت

اقبالؒ اور اشتراکیت


پروفیسر دلنواز عارف

اشتراکیت دراصل سرمایہ داری کی استحصالی نظام کے ردِّ عمل کے طور پر اُبھری تھی۔ جس کا پورا زور جائزوناجائز ذرائع سے سرمایے کو بڑھانا قرار پایا تھا اور یہ کہ معیشت کا ہر مسئلہ Market Forces یعنی طلب و رسد کی بنیاد پر طے کیا جاتاہے۔ اس لیے اس نظام میں فلاحِ عامہ اور غربا کی بہبود کا کوئی واضح اہتمام موجود نہ تھا۔ کارل مارکس نے اِس جابرانہ اندازِ سرمایہ داری کے خلاف صداے احتجاج بُلند کی اور مزدوروں کی حمایت کا نعرہ لگایا۔ اشتراکیت نے سرمایہ داری نظام کے بنیادی تصّورات کے تضاد کو نمایاں کیا۔اس کا یہ دعویٰ ہے کہ و ہ زندگی کی تکمیل کی ضامن ہے۔

”اِشتراکی نظریے کے مطابق آمدنی کی تقسیم کے لیے رسد و طلب کا فارمولا ایک ایسا بے حس فارمولا ہے۔ جس میں غریبوں کی ضروریات کی رعایت نہیں۔(85)
اشتراکیت نے جدید دنیا کو منصوبہ بندی کا قابلِ قدر تصّور دیا ہے۔ اس لیے اشتراکی معیشت کو منصوبہ بند معیشت (Planned Economy) کہا جاتا ہے۔
اشتراکیت کے بنیادی اصول:
اشتراکی معیشت مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر منحصر ہے۔
الف۔منصوبہ بندی:(Planning)
منصوبہ بندی سے مراد ہے : کیا پیدا کیا جائے؟ کیوں پیدا کیا جائے ؟کس کے لیے پیدا کیا جائے؟ اور کتنا پیدا کیا جائے؟ یعنی تمام بنیادی معاشی فیصلے حکومت منصوبہ بندی سے کرے۔
ب۔ اجتماعی ملکیت (Collective Property):
اشتراکی معیشت میں انفرادی ملکیت (Private ownership) کا تصّور موجود نہیں ہے۔
وسائل ِپیداوار: زمین، جنگلات، دریا، کارخانے، عوامی فلاحی ادارے، سکول، کالجز، ہسپتال وغیرہ سب سرکار کی ملکیت قرار پاتے ہیں۔
ج۔اجتماعی مفاد (Collective Interest):
اشتراکیت میں انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کے تابع رکھا جاتا ہے۔ برعکس اس کے سرمایہ دارانہ معیشت میں تمام معاشی سرگرمیاں ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔
د۔آمدنی کی منصفانہ تقسیم (Equitable Distribution of Income)
اشتراکیت کا چوتھا اصول یہ ہے کہ ملکی پیداوار سے جو کچھ آمدنی حاصل ہو وہ منصفانہ طور پر ملکی آبادی میں تقسیم کر دی جائے: آمدنیوں میں توازن قائم کرکے امیر و غریب کے درمیانی فاصلے کو کم کر دیا جائے۔
اِقبال اور اشتراکیت:(Iqbal & Socialism)
طوفان کی طرح اُبھرنے والے اِشتراکی نظام کا اقبال نے بڑی باریک بینی اور ژرف نگاہی سے مطالعہ کیا اور اسلامی فلسفہ¿ حیات کی روشنی میں اِس نظام کے معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی پہلوﺅں کا جائزہ لیا۔ پھر واضح طور پر اس کی خوبیوں کی مدح اور خامیوں پر تنقید کی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کلی طور پر اشتراکیت کے نہ تو حامی ہیں اور نہ ہی مخالف۔ اس نظام کے جو اصول اسلامی تعلےمات کے قرےب تر ہےں۔ اقبال انہےں بنظرِاستحسان دےکھتے ہےں اورجوان سے ٹکراتے ہیں ان پر تنقید کرتے ہوئے ردّ کر دیتے ہےں۔ جب کہ (82)
اشتراکیت پر سب سے زیادہ مخالفانہ اشعار ”جاوید نامہ“ میں جمال الدین افغانی کی زبانی ہیں۔ تنقید کے باوجود ان اشعار میں تحسین کا پہلو بھی موجود ہے۔ اقبال کے ہاں اشتراکیت کے لیے ایک نرم گوشہ ضرور موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں:....
صاحبِ سرمایہ از نسلِ خلیل
یعنی آں پیغمبرِ بے جبرائیل
زانکہ حق در باطل او مضمراست
قلبِ اُو مومن و دماغش کا فر است
غربیاں گم کردہ اند افلاک را
در شکم جویند جانِ پاک را
رنگ و بُو از تن نگیرد جانِ پاک
جز بہ تن کارے ندارد اشتراک
دیں آں پیغمبرِ حق ناشناس
بر مساوت شکم وارواساس
(87)
اقبال یکسانیت بیزار اور تغیّر پسند فلسفی واقع ہوئے ہیں۔ وہ ایک محدود اور لگی بندھی دنیا کے مکین نہےںہےں۔ ان کے کلام میں ایسے اشعار کی کثیر تعداد موجود ہے، جن میں جدت وندرت کو انتہا پسندانہ انداز میں سراہا گیا ہے، مثلاً:
جس میں نہ ہو انقلاب‘ موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمَم کی حیات کشمکشِ انقلاب !
(88)
چونکہ اشتراکیت بھی ایک صداے احتجاج و انقلاب تھی۔ اس کے علاوہ اِقبال اور اشتراکیت کی بہت سی دشمنیاں بھی مشترک تھیں، مثلاً: اشتراکیت خُدا اور مذہب کی منکر ہے۔ اقبال اعلیٰ درجے کا موحّد اور کٹر مسلمان ہے۔
(89)
اشتراکیت، فرد کی مستقل اور جُداگانہ شخصیت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ مساوات کی دعویدار ہے، لیکن غور کیا جائے، تو بقولِ اقبال مساوات تو ہے۔
(90)
حقیقت یہ ہے کہ اقبال اشتراکیت اور سرمایہ داری دونوں کو افراط و تفریط کا شکار سمجھتے ہیں اور اعتدال کی راہ ”اسلام“ کی طرف مراجعت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جو زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔
کال مارکس کا نقطہ¿ نظر اخلاقیات کے سلسلے میں بھی منفی ہے۔ سچ جھوٹ کی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں ہے۔ اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے مکر، فریب، دغا، جھوٹ اور قتل و غارت سب کچھ جائز ہے۔ اس کے بقول دنیا کی تمام جنگیں وسائل پیداوار پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی گئیں۔ جنگوں کی وہ نہ صرف مادی تعبیر کرتا ہے اور تاریخ کی موجودہ صورت کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ بل کہ ہر تاریخی واقعہ میں طبقاتی کشمکش ڈھونڈ نکالتا ہے۔
(پروفیسر دلنواز عارف)

Iqbal teri qoum ka “Iqbal” kho gaya!

Iqbal teri qoum ka “Iqbal” kho gaya!

By Hira Nazir:

Kehtay hain kuch log aise hain jo zamanay kay pechay bhagtay hain. Lekin kuch hastiyan aisi bhi guzri hain jin kay pechay zamanay bhagtay hain. Aur beshak sitaron kay uss groh ka sab se chamkdaar sitara Shaair-e-Mashriq Allama Mohammad Iqbal hain. Woh aik hasti jis ne hazaron ki zindagiyan badal dein. Woh aik rehnuma, jin ki qayadat nay qoum ki taqdeer badal daali. Woh aik falsafi jin kay falsafay ne inqilaab barpa kar diya. Woh aik shaiyr jin ke alfaaz ne bay-jaan ruhon mein zindagi phoonk di. Sochnay ki baat hai woh aik Insan jis ne itna kuch kar diya aj hamari zindagiyon se uska peghaam kiyun mit gya? Kiyon hum ne uss qaaid ka diya hoa sabak bhula diya jin ki rehnumai ne hamain azadi kay roshan suraj se roshnaas karaya?
Ham manatay hain Iqbal ki saalgirah , unka youm-e-wafat lekin ajj hum asli mano’on mein bhulay hain tou sirf uss hasti ka woh pegham jo unhon ne diya apni qoum ki kamiyabi ki khatir. Hamaray roshan mustakbil ke liye. Kehtay hain jo qoumain apnay rehnumaon ko bhool jati hain zawal unhi ka muqaddar hota hai. Aj hum mein se hazaron yeh jantay hain kay Iqbal ka youm-e-wafat ya salgirah kab hai. Unki shaiyri kesi thi aur konsi kitabain hain. Roz marra zindagi mein unke asha’ar ka baqaida istemal bhi kartay hain. Hum mein se hazaron Iqbal ko “Rouhani Rehnuma” samajhtay hain. Unkay asha’ar zubani yaad hain. Lekin unke alfaz ka asli matlab sirf chand logon ko maloom hai. Hum mein say kafi log jantay hain Iqbal ka ”Falsafa-e-Khudi”. Lekin “Khudi mein doob ja ghafil yeh sirray zindagani hai” ka matlab, shayed hi kisi ko pata ho. Yeh intihaai tashveesh ki baat hai kay jahan Iqbal ka pegham radio progammes mein chala kar bachon ko sunaya jata tha. Jahan har aik ghar mein Iqbal ka shaydaai moujood hain. Aj uski Iqbal ka kaalam hamari nisaabi kitabon se mit raha hai. Aj usi Iqbal ka sabak hamaray zehno se kharij ho chuka. Iqbal ka woh azeem naa’ra , woh anmol alfaz, jin ki badolat Hindustan ki musibat zaada musalman abadi ko azadi ka roshan suraj dekhna naseeb hova, aj hamari yaad ka hissa bhi nahi hain. Hairat ki baat hai kay jis hasti nay masharti, mazhabi, siyasi aur har dosray maidan mein apna naqsh chora. Jin ke anmol khayalat ne Pakistan jesay mulk ko maariz-e-vajood mein lanay ka ma’arka sar anjaam diya. Jin ki ” lab pe aati hai dua ban kar tamanna meri” kal tak hamari subah ki dua hoa karti thi. Aj hum os hasti ka diya hoa har aik sabak bhool chukay hain.
Sirf Iqbal kai asha’ar yaad karna hi unka pegham samajhna nahi hai. Aj hum unka kalam khush ilhani se gaa letay hain magar hum nahi jantay kat “Ya Rab Dil-e-Muslim ko woh zinda tamanna de” ka asli matlab kiya hai. Hum nahi jantay kay “Khudi na baich fakeeri main naam peda kar” kissay kehtay hain. Humain nahi pata kay “Momin sirf ehkaam-e-ilahi ka hai paband” kai kiya maa’ani hain. Yeh baat qabil-e-zikar hai magar qabil-e-fakhar nahin kay ham Iqbal ki hasti aur un kay kaam ko kharaj-e-aqeedat tou paish kartey. Unka kalam bohat shouk se parhtey hain. Unka falsafa bohat chaah se suntay hain. Lekin hamain ma’aloom nahin kay unke alfaaz kay peechay paigham kiya hai. Hamain khabar nahi tou is baat ki kay unka kalam asal mein hai kia. Unki shaiyrie, unka falsafa, unki soch, unke khayalat.. Yeh sab haqeeqatan kia hain? In ka asal matlab kiya hai? Hum kis tarah unka paigham apni zindagiyon mein daaal saktay hain? Unke diye hoye nazarye par amal paira ho kar kesay apna mustakbil sanvaar saktay hain? Humain khabar nahi hai sirf is baat ki kay 1947 mein jis hasti ki soch aur kavishon ki badoulat hamara mulk azad hova. Un ki soch ko aj 21 saddi mein kis tarah apni zindagiyon mein daal kar taraqqi ki manazil taiy karain?
Aj zarorat hai tou sirf is amar ki kay hum Iqbal kay falsafay, unke kalam aur unke khayalat ko samjhein. Unke paigham ki khoj kar ke osay janain. Aur apni zindagiyon mein amli tor par osay daal kar behtar mustaqbil kay liye koshish karain.
Iqbal teri qoum ka Iqbal kho gaya
Maazi tou sunehra hai Magar Haal kho gaya
News Source: Tribune