Monday, 1 June 2015

اقبال بحیثیت نثرنگار

اقبال بحیثیت نثرنگار
محمد شہاب الدین

ڈاکٹراقبال کے متعلق بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور مختلف علمی میدانوں میں دنیا ان کی خداداد قابلیت و ذہانت کو خراج عقیدت پیش کر چکی ہے۔ آج دنیا ان کو شا عر مشرق، شا عر فلسفی اور فن شاعری کا امام تسلیم کرتی ہے۔ لیکن معلوم ہو نا چا ہئے کہ اقبال کی پہلی تصنیف کا تعلق نہ شاعری سے ہے،نہ فلسفے سے بلکہ نثر سے ہے۔ جو ۱۹۰۳میں علم الاقتصاد کے نام سے ۲۱۶ صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں لاہور سے شائع ہوئی۔ جن میں معاشیات جیسے دقیق اور اہم مسائل کو نہایت واضح اور خوب موثر انداز میں سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اردو زبان میں اپنی نو عیت کی پہلی کتاب ہے۔ جس کو بیسویں صدی کی علمی نثر کا اعلیٰ نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ چوں کہ اس زمانے میں اس طرح کے علمی موضوعات کو اردو میں پیش کر نے کی کوئی باقاعدہ روایت نہیں تھی، ڈاکٹر اقبال نے اپنی اس کتاب میں اس طرح کے مشکل موضوعات کو بڑی روانی کے ساتھ پیش کیا۔ ظاہر ہے اس قسم کے علمی موضوعات کو آسان، سادہ اور عام فہم زبان میں پیش کردینا کسی کار نامہ سے کم نہیں ہے۔
اقبال نے فن شعر ہی کو ذریعہ اظہار نہیں بنایا بلکہ تقریروں، نثری تحریروں اور خطو ں کے ذریعہ بھی وہ اپنے خیا لات و نظریات کا اظہار کر تے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ان کو بحیثیت شاعر ہی جانتے ہیں لیکن یہ ایک امر مسلم ہے کہ وہ ایک اچھے نثر نگار بھی تھے۔ یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ان کی تقریروں اور تحریروں کو جو اہمیت دینی چا ہئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ ان کے آج بھی بہت سے مضامین ہیں جو مختلف رسالو ں کی زینت بنے ہو ئے ہیں۔ جبکہ اس طرح کے کارآمد اور قیمتی اثاثہ کو اب تک کتابی شکل میں ہو نا چاہئے۔ تاکہ لوگ ان رو شن خیال اور فکرانگیز تحر یر سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ افکار اقبال کے گنج ہائے گرا نمایہ صرف ان کے اشعار کے مجمو عے ہی نہیں، ان کی تحریریں بھی ہیں جن کو پڑھ کر اقبال کے کلام کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ آج اقبال کو لو گو ں نے ابتدا سے انتہا تک شاعر ہی مان لیا ہے۔ حالانکہ اقبال کی ان تحریروں کو پڑھ کراندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پا یہ نثر نگا ر بھی تھے۔ ان کے نثری افکا ر کے خصو صی مطالعہ کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ان کے نثری افکار کا جو سرمایہ ہما رے سامنے آیا وہ بہت تھوڑا تھا اور جو کچھ آیا وہ کئی برس پہلے آیا تھا۔ ادھر چند سال ہوئے اقبال کے مکاتب اور کچھ نایاب تحریروں کے چند اور مجمو عے سا منے آئے ہیں۔ لیکن اب تک جو کام ہوناچاہئے تھا وہ اب بھی باقی ہے۔
علامہ اقبال کے مضامین کو سب سے پہلے حیدر آباد میں تصدق حسین صاحب حیدرآبادی نے مضامین اقبال کے نا م سے شا ئع کیا۔ اسی کو بنیاد بناکر اضافے کے ساتھ سید عبدالواحد معینی نے مقالات اقبال کے نام سے شائع کیا ہے۔ عبد الواحد صاحب نے اس مجمو عے میں علا مہ کے ان تمام مضامین و مقالات کو یکجا کردیا ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف رسائل و اخبار میں لکھے تھے۔ غرض اس مجمو عے میں علامہ کی بیشتر ایسی بکھری ہوئی نثری تحریریں یکجا ہیں جو انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین و مقالات کی صورت میں شائع کروائی تھیں۔ اس اعتبار سے دیکھی جائے تو یہ واحد مجموعہ ہے جس میں علامہ کی بیشتر اہم تحریریں پڑھنے والوں کو یکجا ملجاتی ہیں۔ ان تصا نیف کے علاوہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ علامہ کے مکا تیب کے بیش بہا مجمو عے موجود ہیں۔ ان مکا تیب میں بھی علامہ نے زیادہ تر ادبی یا فنی موضو عات سے بحث کی ہے۔ اقبال نامہ، علامہ اقبال کے مکاتیب کا مجموعہ ہے جو انہوں نے اکبر الہ آبادی، قا ئد اعظم محمد علی جناح، بابائے اردو مولوی عبد الحق اور بعض دوسرے ہم عصروں کے نام لکھے ہیں۔ اس مجمو عہ کو شیخ عطا ء اللہ نے ۱۹۴۳ میں مرتب کیاہے۔ ان خطوط سے علامہ کی سیر ت و شخصیت پر روشنی پڑ تی ہے، مختلف موضوعات پر ان کے خیالات و نظریات کا اندازہ ہو تا ہے اور ان کے اسلو ب نگارش کی صحیح قدر و قیمت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس مجمو عے کے ایک خط کے اقتباس سے اس کی حقیقت کا صحیح طور پر اندازہ ہوگا؛
مکرم بندہ جناب میر صاحب
السلا م علیکم
دو نوں رسالے پہنچے، سبحان اللہ نواب صاحب کی غزل کیا مزے کی ہے، افسوس ہے کہ اب تک میں نے آپ کے گلدستے کو کوئی غزل نہیں دی ....... ایک تکلیف دیتا ہوں، اگر آپ کے استاد حضرت مرزا داغ کی تصویر ہو تو ارسال فرمائیگا، بہت ممنون ہونگا۔ اگر آپ کے پا س نہ ہو تو مطلع فرمائیےگا کہ کہا ں مل سکتی ہے۔ میں نے تما م دنیا کے بڑ ے بڑ ے شاعرو ں کے فوٹوز جمع کر نے شروع کئے ہیں ...... اگر آپ کو معلوم ہو تو از راہ کرم جلد مطلع فرمائیں۔ حضرت امیر مینائی کے فوٹو کی بھی ضر ورت ہے۔
و السلام
خاکسار محمد اقبال
قارئین کو اس مختصر سے اقتباس سے اندازہ ہو گیا ہوگا کہ علامہ کا مزاج کیا تھا۔ مطلب کی بات کس قدر سہل اورچھو ٹے چھوٹے جملے میں رکھتے ہیں۔ نیز ان کی نثر میں تکلف و تصنع کی پیچیدگیاں بالکل نہیں دکھتی۔ ہر کوئی آسانی کے ساتھ ان کی بات سمجھ سکتا ہے۔
نثر اقبال کا ایک اہم موضوع قومی ملی زندگی ہے۔ اس مو ضوع پر انہو ں نے کوئی با قاعدہ ضخیم کتاب تو نہیں لکھی ہے لیکن جو کچھ انہوں نے اپنی شاعری میں لکھا ہے اس کی تفسیر اس کے مضامین نثر میں ملتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مضمون ’’بچو ں کی تعلیم و تر بیت ‘‘ کے عنوان سے ہے جو ۱۹۰۲ میں مخزن میں شائع ہوا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۱۹۰۴ میں ’’مخزن ‘‘میں قومی زندگی پر ایک مفصل مضمون ’’قومی زندگی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بھر اس کے بعد اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں علامہ نے خلا فت اسلامیہ، ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر، جیسے اہم قومی و ملی موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان مضامین کے علاوہ دیباچۂ مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ اور دیباچہ ’’پیام مشرق‘‘ میں بھی انہوں نے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان میں سے ہر نثری تحریر بہ حیثیت مو ضوع اور اسلوب خاص اہمیت کی حامل ہے۔
اقبال کے اسلو ب کی اہم خصو صیت یہ ہے کہ وہ سنجیدہ اور علمی موضوعات کو بھی دلچسپ اور پر لطف بناکر پیش کرتے ہیں۔ شاعری کی طرح ان کی نثر میں بھی بعض جگہ تصویر کشی کے نمونے ملتے ہیں خاص طور پر کسی علمی نکتے کی وضاحت کے سلسلے میں جب وہ کو ئی واقعہ بیان کرتے ہیں تو ان کا تخیل کچھ ایسی تصو یریں بناتا ہے جو جاندار اور بولتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
’’لا ہور کے کسی محلے میں جا نکلو ،ایک تنگ و تاریک کوچے پر ہما ری نظر پڑےگی جس وحشت زا سکوت کے طلسم کو رہ رہ کر لا غر، نیم برہنہ بچو ں کی چیخ و پکار یا کسی پردہ نشیں بڑھیا کی لجاجت آمیز صدا توڑتی ہوگی جس کی سوکھی اور مرجھائی ہوئی انگلیاں بر قع میں سے نکل کر خیرات کے لئے پھیلی ہو ئی ہونگی‘‘۔
مسلمان قوم کی تباہ حالی، خصوصا غربا ء کی اس پامالی کا نقشہ دیکھ کر افسردگی کا احساس ہوتا ہے۔ جزئیات یعنی لاغرونیم برہنہ بچوں کی چیخ و پکار اور پردہ نشیں بڑھیا کی سوکھی مرجھائی اور خیرات طلب کرتی انگلیاں اس عبارت کا وصف خا ص ہیں۔ یہ جزئیات دل کو متا ثر کرتی ہیں اور افلاس و غر بت کی تصویر حواس پر چھا جاتی ہے۔
اقبال کی تحریروں میں مشاہدے کی شد ت، جذبا ت کی ہیجان انگیزی اور تخیل کی بلند پروازی یہ سب صفات مل کر واردات و کیفیات کی ایسی تصویروں کو بےنقاب کرتی ہیں جو منھ سے بولتی ہو ئی نظر آتی ہیں۔
علامہ کو تفکرات زمانہ اور گونا گوں مصروفیتوں نے اس کی مہلت نہ دی کہ وہ اردو نثر کو بھی اپنی غیر فانی نظموں کی طرح ایک گراں سرمایہ عطا کریں۔ پھر بھی جس ادیب کی پہلی تصنیف نظموں کو چھوڑکر اردو نثر میں ہو اور جو اپنی معر کتہ الآراء نظموں کے ساتھ اردو میں بیش بہا نثر بھی لکھتا رہا ہو۔ اس کی نثر نگاری کو نظر انداز کرنا صریح طور پر ناانصافی ہوگی۔ یہ بات حقیقت ہے کہ اقبال نے اس زمانے میں جو نثر لکھی وہ مقدار میں کچھ زیادہ نہیں ہے لیکن جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اس میں اس عہد کے رجحانات کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ان کی نظم کے ساتھ ساتھ نثرمیں بھی ان کی انفرادیت کا احسا س ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کی تمام نثری تصانیف ان کی اسی انفرادیت کی تصویریں ہیں جن سے ان کی ادبی اور فن کار انہ شخصیت کی عظمت کا اندا زہ ہو تا ہے۔

No comments:

Post a Comment